خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 244 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 244

$ 1949 244 خطبات محمود نسبت ہی نہیں۔ملک اور قوم اور بیوی بچوں اور دوسرے عزیزوں سے نیک سلوک کرنے والے کی قربانی بھی بیشک قربانی کہلائے گی لیکن ہو گی ادنی۔اس لیے کہ اس نے بڑی چیز کو چھوڑ کر چھوٹی چیز کو ختیار کیا۔اگر وہ اس جذبہ کا صحیح استعمال کرتا تو وہ ہر مقام کی نسبت سے اپنی قربانی کو تقسیم کرتا۔قوم، ملک، والدین اور بیوی بچوں وغیرہ کے لیے قربانی کرنے والے کی خدا تعالیٰ پر نظر نہیں ہوتی۔کتاب میں ہم پڑھ رہے ہوتے ہیں کہ فلاں شخص نے قوم کی خاطر قربانی کی ، فلاں نے اپنے آقا کے ساتھ نیکی کی مگر ہم موازنہ نہیں کر رہے ہوتے۔ہم ایک پہلو کو ترک کر دیتے ہیں اور ایک پہلو پر ساراز در خرچ کر دیتے ہیں۔ہم ایک پہلو کو دیکھ کر اسے کامل تصور کر لیتے ہیں لیکن جب عقل کے ساتھ موازنہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا خیال غلط تھا۔مثلاً ایک شخص ایک تنومند انسان کو جو سخت پیاسا ہوا ایک چلو بھر پانی دے دیتا ہے اور بچے کے سامنے پانی کی گڑوی رکھ دیتا ہے تو تنومند شخص کا ایک چلو بھر پانی سے کیا بنے گا۔وہ اسے پیاس سے بچا نہیں سکتا اور نہ ہی پانی کی گڑوی بچے کے کام آ سکے گی۔تنومند شخص چلو بھر پانی پی کر مر جائے گا اور بچہ پانی کی گڑوی پی کر مر جائے گا۔غرض اس کی قربانی قربانی تو کہلائے گی لیکن عقل کے ساتھ موازنہ نہ کرنے کی وجہ سے ناقص رہ جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ میں یہ بتایا ہے کہ میں اپنی وہ قربانی پیش کرتا ہوں جو خالصہ اللہ ہے۔اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری قربانیاں نہیں کرتے تھے۔آپ نے دوسری قربانیاں بھی کیں اور ان کا ذکر قرآن کریم میں بار بار آتا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاع نَّفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ 3 اے محمد رسول اللہ! کیا تو اس وجہ سے کہ وہ ایمان نہیں لاتے اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالے گا۔آپ نے جس رنگ میں اپنی قوم سے وفاداری کی اور صرف اپنے دوستوں کے لیے ہی نہیں اپنے دشمنوں کے لیے بھی قربانیاں کیں وہ اپنی نظیر آپ ہیں۔حضرت عباس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا بھی تھے اور محسن بھی۔آپ دوسروں کی تی نسبت ان سے زیادہ محبت کرتے تھے۔جنگ بدر میں وہ قید ہوئے۔جب اسلامی لشکر مدینہ واپس آرہے تھا تو راستے میں ایک جگہ پر کچھ دیر آرام کرنے کے لیے قیام کیا گیا۔اُن دنوں بیٹریاں اور ہتھکڑیاں نہیں ہوتی تھیں۔قیدیوں کو رسیوں سے باندھ دیا جاتا اور رسیاں زیادہ سخت کر کے باندھی جاتی تھیں