خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 237 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 237

1949ء 237 خطبات محمود ہے قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ 7 یعنی اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میرے نقش قدم پر چلو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر مومن کی نماز بھی ایسی ہی ہوتی ہے اور وہی سچا مومن کہلا سکتا ہے جس کی نماز محمدی نماز ہو۔ ہم نوح علیہ السلام کی شریعت کے متبع نہیں ہیں، ہم موسی علیہ السلام یا عیسی علیہ السلام کے متبع نہیں ہیں اور بیشک ہم انہیں بھی نبی سمجھتے ہیں لیکن ہمیں ان کی نماز سے غرض نہیں ہماری نماز وہی ہونی چاہیے جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تھی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کیا تھی؟ اس کے متعلق آپ خود نہیں فرماتے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ تُو لوگوں سے کہہ دے کہ میری نماز صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر ہے جو رب العلمین ہے۔ گویا خدا تعالیٰ نے اس بات کی توثیق کر دی ہے کہ آپ کی نماز واقع میں اُسی کے لیے ہے۔ پڑھنے والے کا یہاں ذکر نہیں کہ اُس کی کیا نیت ہے۔ جس کی خاطر پڑھی جاتی ہے وہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے اور کہتا ہے مجھے پتا ہے کہ یہ نماز میرے لیے ہی ہے۔ گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عبادت کے ساتھ اتنی قیدیں لگا دی ہیں کہ اسے انتہائی درجہ تک پہنچا دیا ہے۔ کتنا کنٹرول کرنا پڑتا ہے اپنے نفس پر کہ کوئی ایسی بات دل میں نہ آئے جس سے ظاہر ہو کہ اُسے قوم یا کسی اور شخص سے خوف ہے یا دوزخ کا ڈر اور جنت کو حاصل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز جہاں ماسوی اللہ کے لیے نہیں تھی وہاں وہ جہنم کے خوف یا جنت کے انعامات حاصل کرنے کی غرض سے بھی نہیں تھی۔ وہ صرف وصالِ الہی کی خاطر تھی ۔ اور وصالِ الہی کے یہ معنے ہیں کہ انسان ایسے مقام پر پہنچ جائے کہ اس کے سامنے صرف اس کی ذات ہی ذات رہ جائے ۔ یہ وہ نماز ہے جس کا اسلام نے تقاضا کیا ہے۔ دوسری کسی امت نے اس کا تقاضا نہیں کیا۔ صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی کیا ہے کہ میری نماز اللہ کے حصول کی خاطر ہے دیکھ لو! یہ آیت لفظ قل سے شروع ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ خود کہتا ہے ہم تجھے حکم دیتے ہیں کہ تو ایسا کہہ دے۔ گویا اُس نے آپ کے دعوی کی تصدیق کر دی ہے۔ یہ وہ صلوٰۃ ہے جس کا حقیقتاً اسلام ہر مسلمان سے تقاضا کرتا ہے۔ نچلے درجے بھی مومن کے ہی ہیں لیکن وہ محمدی مقام کے ہمرنگ نہیں کہلا سکتے ۔ اگر جہنم کے خوف یا انعام کے لالچ سے ۔ نماز پڑھی جائے تو وہ مقبول ضرور ہو جائے گی، اس کا پڑھنے والا مومن بھی کہلائے گا لیکن