خطبات محمود (جلد 30) — Page 235
$1949 235 خطبات محمود میں ملبوس اکڑتے ہوئے گھر میں داخل ہوئے۔وہ لونڈی بھری بیٹھی تھی۔اس نے حضرت حمزہ کو جو دیکھا تو غصہ میں کھڑی ہوگئی اور کہنے لگی تمہیں شرم نہیں آتی بڑے سپاہی بنے پھرتے ہو۔کمان ہاتھ میں پکڑی ہوئی ہے اور شکار کر کے فخر سے گھر میں داخل ہوئے ہو۔تم کو پتا نہیں کہ آج تمہارے بھتیجے کے ساتھ کیا ہوا ؟ حضرت حمزہ نے پوچھا کیا ہوا؟ لونڈی نے سارا واقعہ سنا دیا اور واقعہ سنانے کے بعد جوش میں آکر کہنے لگی خدا کی قسم ! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اسے کچھ بھی تو نہیں کہا۔مگر ابو جہل اسے گالیاں دیتا چلا گیا۔یہ ایک مختصری گفتگو تھی لیکن وہی حمزہ جو سالہا سال سے آپ کی تبلیغ سے متاثر نہیں ہوئے تھے اس چھوٹی سی بات سے اتنے متاثر ہو گئے کہ ان کے آگے سارا نقشہ پھر گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کی صفات کے متعلق یا مکہ والوں کی مخالفت کے متعلق پتھر پر بیٹھے ہوئے تنہائی میں غور کر رہے ہیں۔ابو جہل آیا ہے اور اس نے بغیر پوچھے آپ کو گالیاں دینی شروع کر دی ہیں اور جب آپ نے جواب نہیں دیا تو اس نے مارنا شروع کر دیا۔اور پھر وہ سادہ سا فقرہ جو لونڈی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جواب کے متعلق کہا ان کے سامنے آ گیا کہ خدا کی قسم! محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نے اسے کچھ بھی تو نہیں کہا۔حضرت حمزہ کی آنکھوں پر سے تکبر اور غرور کا پردہ اُٹھ گیا۔کفر کا پردہ چاک ہو گیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی باتیں سن کر جن پر اثر نہیں ہوا تھا۔اس دن کے واقعہ سے جس کی خبر اُن کی ایک ان پڑھ لونڈی نے انہیں دی تھی اتنا اثر ہوا کہ انہوں نے شکار وہیں پھینکا اور وہی تیر کمان ہاتھ میں پکڑے ہوئے خانہ کعبہ میں آئے۔وہاں دربار لگا ہوا تھا اور ابو جہل دوسرے سردارانِ مکہ میں بیٹھا شاید صبح کا واقعہ ہی سنا رہا تھا۔حضرت حمزہ ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے اور رؤساء مکہ میں سے تھے اس لیے دوسرے رؤساء نے جو ابو جہل کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے آپ کے لیے رستہ بنایا ہے اور کہا آؤ حمزہ ! تم بھی آؤ اور یہاں بیٹھو۔حضرت حمزہ نے اُن کی اس بات کا کوئی جواب نہ دیا بلکہ سید ھے ابو جہل کی طرف گئے اور کمان جو ہاتھ میں پکڑی ہوئی تھی اُس کے سر پر مار کر کہا میں نے سنا ہے ی تم نے آج ایسی شرارت کی ہے۔تم بڑے بہادر بنے پھرتے ہو مگر تمہاری بہادری یہی ہے کہ تم می محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو مارتے ہو۔اس لیے کہ وہ خاموش رہتا ہے۔میں نے سارے مکہ کے سامنے تجھے مارا ہے اگر تم میں طاقت ہو تو آؤ! مجھ سے مقابلہ کر لو اور اس کا بدلہ لو۔حضرت حمزہ بیشک رؤساء مکہ میں سے تھے مگر ابو جہل تو اُس وقت کفار کا سردار تھا اس لیے سارے رؤساء کھڑے ہو گئے اور