خطبات محمود (جلد 30) — Page 15
1949ء 15 خطبات محمود اپنے ارد گرد بے عملی کا قلعہ بنالیتا ہے تو کوئی شخص اُس سے نہیں ڈرتا کیونکہ ہماری اپنی بنائی ہوئی دیواریں اُسے محفوظ کر لیتی ہیں۔ پس اگر ہم اس قلعہ کو گرا دیں جو ہم نے اپنے ارد گرد بنایا ہوا ہے تو یقیناً شیر شیر ہے۔ پس ہماری جماعت کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر ایک نئی تبدیلی پیدا کرے۔ ایک ایسی تبدیلی جو ایک قلیل ترین عرصہ میں اُسے دوسری قوموں پر غالب کر دے۔ ایک جرمن دوست یہاں آئے ہوئے ہیں تا کہ وہ دینی علوم سیکھیں اور واپس جا کر اشاعت اسلام کا کام کر سکیں۔ اگر آپ لوگ اچھا اور جا اسلام کا کام کر اگر ایتا نمونہ پیش کریں گے تو یہ بھی اچھا نمونہ لے کر واپس جائیں گے۔ ان لوگوں میں کام کرنے کی عادت ہے۔ جب یہ لوگ ایمان لے آئیں گے تو یقیناً اسلام کے لیے بڑی بڑی قربانیاں کریں گے کیونکہ دنیا کے لیے جو قربانیاں یہ لوگ کرتے ہیں، جس دلیری کے ساتھ یہ لوگ جنگ کرتے اور اپنی جانیں قربان کر دیتے ہیں ایشیائی لوگ اُس طرح نہیں کرتے۔ جب یہ لوگ ایمان لے آئیں گے تو جس طرح وہ دنیوی ضرورتوں کے لیے قربانیاں کرتے ہیں اُس سے بڑھ چڑھ کر وہ انشاء اللہ دین کے لیے قربانی کریں گے اور اس طرح یہ سلسلہ تمام دنیا میں پھیل جائے گا۔ لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ اچھا نمونہ پیش کیا جائے۔ اور ہم اپنے اندر بھی جدوجہد کا مادہ پیدا کریں کیونکہ اگر ہم ایسا نہیں کریں گے تو یہ لوگ سمجھیں گے کہ یہ مردہ قوم ہے اس سے ہمیں سوائے مردنی کے اور کیا ملے گا۔ اگر ہم اپنے اندر محنت، ہمت اور استقلال پیدا کر لیں ، ہم اپنی عقلوں سے کام لیں تو یہ لوگ بھی ہم سے اسلام سیکھ کر اُس کو آگے پھیلانے کی کوشش کریں گے۔ جس طرح بچے اینٹوں کا گھر بناتے ہیں اور اس کی ایک اینٹ گرا دینے سے تمام اینٹیں گر جاتی ہیں اُسی طرح اگر ہم قربانی کریں گے تو ہمارے رستہ میں جتنی بھی روکیں ہیں یکے بعد دیگرے دور ہوتی چلی جائیں گی۔ کہتے ہیں کوئی شخص کسی قلعہ یا بُرج میں قید تھا۔ اُس کے رفقاء نے تجویز کی کہ اُسے کس طرح قید سے نکالا جائے لیکن انہیں کوئی ایسا ذریعہ نہ ملا۔ آخر انہیں ایک عقلمند آدمی نے ایک تجویز بتائی اور وہ یہ کہ اُس نے ایک ریل کا دھاگا لیا اور دھاگے کا ایک سرا تیر کے ساتھ باندھ کر تیر اوپر کھڑکی میں مارا۔ تیر کھڑکی میں جالگا۔ قیدی نے وہ دھاگا او پر کھینچ لیا۔ جب دھاگا او پر پہنچ