خطبات محمود (جلد 30) — Page 229
1949ء 229 (24) خطبات محمود مومن کی قربانیاں محض اللہ تعالیٰ کی خاطر ہونی چاہیں اور ساری مخلوقات کی ہمدردی اس کے پیش نظر ہونی چاہیے قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ کی نہایت لطیف اور پر معارف تفسیر (فرموده 5 اگست 1949 ء بمقام یارک ہاؤس کوئٹہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: دو پچھلے خطبے میں میں نے قرآن کریم کی ایک آیت قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِى وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 1 کے متعلق بتایا تھا کہ قربانیاں تو ہمیشہ انبیاء کی جماعتوں کو کرنی پڑتی ہیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی امت سے جن قربانیوں کا مطالبہ خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے وہ دوسرے انبیاء اور ان کی امتوں کی قربانیوں سے زیادہ سخت ہیں ۔ اول تو عرصہ قربانی قیامت تک کے لیے ہے یعنی قیامت تک نہ ختم ہونے والا زمانہ آپ کا زمانہ ہے اور اس کا زمانہ ہے اور اس سارے عرصہ میں آپ کو اور آپ کی امت کو قربانیاں کرنا ہوں گی۔ دوسرے ان قربانیوں کی نوعیت بھی بدل دی گئی ہے۔