خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 227

$ 1949 227 خطبات محمود آمد کو چھوڑ دیں گے؟ اگر اس وقت وہ سلسلہ کے لیے اپنی آمد کا 1/10 حصہ بھی دینے کے لیے کی تیار نہیں تو ہم ان پر یہ امید کس طرح کر سکتے ہیں کہ وہ اُس وقت احمدیت کے لیے سب کچھ قربان کی کر دیں گے۔میں دیکھتا ہوں کہ ابھی جماعت کے اکثر حصہ میں کمزوریاں پائی جاتی ہیں اور اس سلسلہ میں وہ جوش عمل نہیں پایا جاتا جس کی الہی جماعتوں سے امید کی جاتی ہے حالانکہ الہی سلسلوں کی میں شامل ہونے والے سب کے سب واقفین زندگی ہوا کرتے ہیں۔وہ رات کو جب سونے لگتے ہیں تو اپنے دن بھر کے اعمال پر غور کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کیا رات ان پر ایمان کی حالت میں آئی ہے۔اور پھر جب نیند سے بیدار ہوتے ہیں تو دن بھر کے لیے ایک مذہبی پروگرام بناتے ہیں۔گویا اُن کا دن اور رات دین کی خدمت میں گزرتا ہے۔جب تک جماعت کے تمام دوستوں میں یہ روح پیدا نہ ہو جائے وقت آنے پر وہ قربانی کے لیے تیار نہیں ہو سکتے۔اور جب یہ روح پیدا ہو جائے گی اور ہم میں سے ہر فرد کا دن اور رات دین کے کاموں میں گزرے گا تو یقیناً ہماری کامیابی میں کچھ بھی شبہ باقی نہیں رہے گا۔میں نے پہلے بھی کئی دفعہ سنایا ہے کہ میں نے بچپن میں ایک کشتی خریدی، اگر چہ اسے تالا لگا دیا جاتا تھا لیکن چونکہ اُن دنوں تالے دیسی قسم کے پیچوں والے ہوتے تھے جو لکڑی سے کھول لیے جاتے تھے۔اس لیے دوسرے لڑکے آسانی کے ساتھ کشتی کھول کر لے جاتے ، اسے چلاتے اور اس کی میں چھلانگیں مارتے اور گو دتے جس کی وجہ سے کشتی میں سوراخ ہو گئے اور پانی اندر آنا شروع ہو گیا۔سوراخوں میں روئی ڈال ڈال کر بند کرنے کی کوشش کی جاتی لیکن سوراخ اتنے بڑے اور کثیر داد میں تھے کہ ان کا بند کرنا مشکل تھا۔میں نے تنگ آ کر کچھ لڑکوں سے کہا کہ کسی طرح کشتی کھول کرلے جانے والوں کو پکڑ کر میرے پاس لے آؤ۔ایک دن میں گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ مدرسہ احمدیہ کا ایک لڑکا آیا اور اس نے کہا لڑ کے کشتی کھول کر اسے چلا رہے ہیں آپ آ کر دیکھ لیں۔وہ کشتی چھ سات آدمیوں کے لیے بنوائی گئی تھی لیکن جب میں وہاں گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دس بارہ لڑکے بے تحاشا کشتی میں اس طرح گو د ر ہے ہیں جس طرح شکر بنانے والے شکر کو ملتے ہیں اور وہ اس کو بھی ایک ذوق سمجھتے تھے۔انہیں ایسا کرتے دیکھ کر مجھے غصہ آیا۔میں نے کچھ لڑ کے دوڑائے اور انہیں کہا کہ تمام راستے روک لو۔یہ بھاگنے نہ پائیں۔ایک طرف میں خود کھڑا ہو گیا۔میں مدرسہ احمدیہ کی طرف تھا اور کشتی دوسری طرف تھی۔وہ لڑ کے گاؤں کے رہنے والے تھے اور رئیس سے لوگ عموماً