خطبات محمود (جلد 30) — Page 203
1949ء 203 خطبات محمود ہوئے۔ آپ کے ماننے والوں میں بھی ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے دین کی خاص خدمت کی اور اس کی خاطر وہ وہ قربانیاں کیں جنہیں دیکھ کر ہماری قوم تا قیامت زندہ رہ سکتی ہے۔ کوئی شخص جب سید عبداللطيف صا صاحب شہید کی قربانیوں کو دیکھے گا تو وہ کہے گا میں بھی عبداللطیف شہید بنوں گا۔ کوئی حضرت خلیفہ مسیح الاول کے واقعات زندگی کو دیکھے گا تو اس کے اندر آپ جیسا انسان بننے کی خواہش موجزن ہوگی ۔ کوئی حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے حالات کو پڑھے گا تو وہ ان جیسا بننے کی کوشش کرے گا۔ کوئی مولوی برہان الدین صاحب اور مولوی محمد عبد اللہ صاحب سنوری کے واقعات پڑے گا تو کہے گا کہ کاش ! وہ بھی ان جیسا بن جائے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض لوگوں نے بعد میں ٹھوکریں بھی کھائیں لیکن ہم ان کی قربانیوں اور اُن کے بے مثال کارناموں کو بھول نہیں سکتے ۔ خدا تعالیٰ جیسا چاہے ان سے معاملہ کرے۔ ہمارا کام یہی ہے کہ ان کی قربانیوں کو نہ بھولیں۔ شیخ رحمت اللہ صاحب نے بیشک بعد میں ٹھوکر کھائی اور حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وفات کے بعد پیغامی ہو گئے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی دینی خدمات اور قربانیوں کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ان سے خاص محبت تھی۔ میں نے کئی دفعہ رویا میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا کہ وہ دوسرے لوگوں کی طرف سے منہ پھیرے ہوئے ہیں لیکن شیخ رحمت اللہ صاحب کی طرف کنکھیوں سے محبت سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کے متعلق میں نے بھی ایک رؤیا دیکھا تھا جو اس بات پر دلالت کرتا تھا کہ وہ ٹھوکر کھائیں گے۔ پس گو انہیں بعد میں ٹھوکر لگی لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے اپنے وقت میں دین کی خاطر قربانیاں کی ہیں۔ ان سے پہلے سیٹھ عبدالرحمان صاحب مدراسی نے قربانی کا بے نظیر نمونہ دکھایا۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں آپ کے ماننے والوں میں سے کئی ایسے لوگ پیدا ہوئے جنہوں نے اپنے اپنے وقت میں دین کے لیے عظیم الشان قربانیاں کیں۔ بعد میں آنے والے جب بھی ان کے واقعات پڑھیں گے اور دیکھیں گے کہ انہوں نے دین کی خاطر بے مثال خدمتیں کی ہیں اور خدا تعالیٰ کا خاص فضل ان پر نازل ہوا ہے تو ان میں بھی ان کی نقل کرنے کی خواہش پیدا ہوگی۔ پھر حضرت خلیفہ المسیح الاول کا زمانہ آیا۔ وہ زمانہ زیادہ تر ار اص یعنی خلافت کے قیام کا