خطبات محمود (جلد 30) — Page 199
* 1949 199 خطبات محمود بزرگ ہیں لیکن اس گتھی کو سلجھانا ان کا کام نہیں۔اس گتھی کو اگر کوئی سلجھا سکتا ہے تو وہ میں ہی ہوں۔یہاں طاقت کا کام ہے نرمی اور محبت کا کام نہیں۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں میں نے سوچ سوچ کر ایسے دلائل نکالنے شروع کیے جن سے یہ ثابت ہو کہ خلیفہ قریش میں سے ہونا چاہیے اور یہ کہ ایک خلیفہ انصار میں سے ہو اور ایک مہاجرین میں سے یہ بالکل غلط ہے۔آپ فرماتے ہیں میں نے بہت سے دلائل سوچے اور پھر اُس مجلس میں گیا جو اس جھگڑے کو نپٹانے کے لیے منعقد کی گئی تھی۔حضرت ابوبکر بھی میرے ساتھ تھے۔میں نے چاہا کہ تقریر کروں اور ان دلائل سے جو میں سوچ کر گیا تھا لوگوں کو قائل کروں۔میں سمجھتا تھا کہ حضرت ابوبکر اس شوکت اور دبدبہ کے مالک نہیں کہ اس مجلس میں بول سکیں۔لیکن میں کھڑا ہونے ہی لگا تھا کہ حضرت ابوبکر نے غصہ سے ہاتھ مار کر مجھ سے کہا بیٹھ جاؤ اور خود کھڑے ہو کر تقریر شروع کر دی۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں خدا کی قسم! جتنی دلیلیں میں نے سوچی تھیں وہ سب کی سب حضرت ابو بکڑ نے بیان کر دیں اور پھر اور بھی کئی دلائل بیان کرتے چلے گئے اور بیان کرتے چلے گئے۔یہاں تک کہ انصار کے دل مطمئن ہو گئے اور انہوں نے خلافت مہاجرین کے اصول کو تسلیم کر لیا۔2 یہ وہی ابو بکر تھا جس کے متعلق حضرت عمرؓ خود بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے ایک دفعہ کسی جھگڑے پر بازار میں آپ کے کپڑے پھاڑ دیئے اور مارنے پر تیار ہو گئے تھے، یہ وہی ابوبکر تھا جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر فرمایا کرتے تھے کہ حضرت ابوبکر کا دل رقیق ہے مگر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو وفات سے قبل آپ نے ی حضرت عائشہ سے فرمایا عائشہ! میرے دل میں بار بار یہ خواہش اُٹھتی ہے کہ میں لوگوں سے کہ دوں کہ وہ میرے بعد حضرت ابو بکر کو خلیفہ بنالیں لیکن پھر رک جاتا ہوں کیونکہ میرا دل جانتا ہے کہ میری وفات کے بعد خدا تعالیٰ اور اس کے مومن بندے ابو بکر کے سوا کسی اور کو خلیفہ نہیں بنائیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا آپ کو خلیفہ منتخب کیا گیا۔آپ رقیق القلب انسان تھے اور اتنی نرم طبیعت کے تھے کہ ایک دفعہ آپ کو مارنے کے لیے بازار میں حضرت عمرؓ آگے بڑھے اور انہوں نے آپ کے کپڑے پھاڑ دیئے۔لیکن وہی ابو بکر جس کی نرمی کی یہ حالت تھی ایک وقت ایسا آیا کہ حضرت عمرؓ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے درخواست کی کہ تمام عرب مخالف ہو گیا ہے صرف مدینہ، مکہ اور