خطبات محمود (جلد 30) — Page 198
$ 1949 198 خطبات محمود کے لیے مبعوث ہوئے تھے اور ان کی قومیں آپ کے زمانہ میں موجود تھیں۔لیکن جو کام رسول کریمی صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد ہوا وہ اس زمانہ میں نہ حضرت موسی علیہ السلام کر سکتے تھے اور نہ حضرت عیسی علیہ السلام کر سکتے تھے۔یہ ایک بڑا وسیع اور اہم مضمون ہے جس کو اگر بیان کیا جائے تو ایک کتاب بن سکتی ہے۔پھر یہ بات انبیاء سے ہی مخصوص نہیں بلکہ ان سے اتر کر بھی اپنے اپنے زمانہ میں ایسے لوگ ملتے ہیں کہ جو کام انہوں نے اُس وقت کیا وہ ان کا غیر نہیں کر سکتا تھا۔مثلاً حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ہی لے لو۔حضرت ابو بکڑ کے متعلق کوئی شخص بھی یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ آپ بھی کسی وقت اپنی قوم کی قیادت کریں گے۔عام طور پر یہی سمجھا جاتا تھا کہ آپ کمزور طبیعت صلح کل اور نرم دل واقع ہوئے ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی جنگوں کو دیکھ لو آپ نے کی کسی بڑی جنگ میں بھی حضرت ابو بکر کو فوج کا کمانڈر نہیں بنایا۔بیشک بعض چھوٹے چھوٹے کی غزوات ایسے ہیں جن میں آپ کو افسر بنا کر بھیجا گیا مگر بڑی جنگوں میں ہمیشہ دوسرے لوگوں کو ہی کمانڈر بنا کر بھیجا جاتا تھا۔اسی طرح دوسرے کاموں میں بھی آپ کو انچارج نہیں بنایا جاتا تھا۔باقی قرآن کریم کی تعلیم ہے یا قضاء وغیرہ کا کام ہے یہ بھی آپ کے سپرد نہیں کیا گیا۔لیکن رسول کریم ان صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ جب ابوبکر کا وقت آئے گا تو جو کام ابوبکر کر لے گا وہ اس کا غیر نہیں کر سکے گا۔چنانچہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور مسلمانوں میں یہ اختلاف پیدا ہو گیا کہ کون خلیفہ ہو اُس وقت حضرت ابو بکر کے ذہن میں بھی یہ بات نہ تھی کہ آپ خلیفہ ہوں گے۔آپ سمجھتے تھے کہ حضرت عمر وغیرہ ہی اس کے اہل ہو سکتے ہیں۔انصار میں جوش پیدا ہوا اور انہوں نے چاہا کہ خلافت انہی میں ہو کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہم نے اسلام کی خاطر قربانیاں کی ہیں اور اب خلافت کا حق ہمارا ہے اور ادھر مہاجرین کہتے تھے کہ خلیفہ ہم میں سے ہو۔غرض رسول کریمی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر ایک جھگڑا برپا ہو گیا۔انصار کہتے تھے کہ خلیفہ ہم میں سے ہو اور مہاجرین کہتے تھے کہ خلیفہ ہم میں سے ہو۔آخر انصار کی طرف سے جھگڑا اس بات پر ختم ہوا کہ ایک خلیفہ مہاجرین میں سے ہو اور ایک خلیفہ انصار میں سے ہو۔اس جھگڑے کو دور کرنے کے لیے ایک میٹنگ بلائی گئی۔حضرت عمرؓ فرماتے ہیں اُس وقت میں نے سمجھا کہ حضرت ابوبکر" بیشک نیک اور