خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 194 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 194

$ 1949 194 خطبات محمود بہتیرا کہو کہ میں تمہاری ماں سے تمہیں پٹواؤں گا تو وہ یہی کہتے چلے جائیں گے کہ وہ ہمیں نہیں ہے مارے گی۔آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ اس کی یہی وجہ ہے کہ بچہ اپنی ماں کے متعلق محبت کے جذبات کی رکھتا ہے خواہ وہ مار کے قابل ہی ہو تب بھی وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ اسے نہیں مارے گی۔اسی طرح اگر تمہیں اللہ تعالیٰ سے اتنی محبت ہو جاتی ہے کہ تم یقین رکھتے ہو کہ اگر تم سزا کے بھی قابل ہو تو وہ تمہیں سزا نہیں دے گا بلکہ تم سے پیار کرے گا تو یہی وہ مقام ہے جہاں سے قبولیتِ دعا شروع ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ نے رمضان کے متعلق وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس مہینہ میں مومنوں کی دعائیں زیادہ سُنتا ہے مگر وہ سُنتا انہی شرطوں کے ساتھ ہے جو اس نے پہلے سے بیان فرما دی ہیں۔یعنی انسان کو قبولیتِ دعا اور خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر یقین ہو اور دعا انہی امور کے متعلق کی جائے جو دعا کی حد میں آتے ہیں اور دعا اتنی کی جائے جتنی شرائط کے مطابق ہو۔پھر ساتھ ہی دعا کرنے والے کو خدا تعالیٰ سے محبت ہو اور وہ یہ یقین رکھتا ہو کہ خدا تعالیٰ صرف حضرت موسی علیہ السلام یا حضرت عیسی علیہ السلام یا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود الله علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی خدا نہیں تھا بلکہ میرا بھی خدا ہے۔یہی وہ جذبہ تھا جس کے ماتحت حضرت احمد صاحب سرہندی نے یہ کہہ دیا تھا پنجه در پنجه خدا دارم من چہ پر وائے مصطفی دارم اس سے آپ کی یہی مراد تھی کہ خدا تعالیٰ سے میرا ذاتی تعلق ہے اور وہ براہِ راست مجھے سے پیار کرتا ہے۔جیسے ایک عورت خاوند سے بھی محبت کرتی ہے اور اپنے بیٹے سے بھی محبت کرتی ہے۔مگر ماں کی محبت میں بیٹا باپ کا محتاج نہیں ہوتا اُسے اپنی ماں سے براہِ راست تعلق ہوتا ہے۔اور ماں بھی اپنے خاوند کا خیال کیے بغیر اس سے محبت کرتی ہے۔گویا جب وہ خاوند کا خیال کرے گی اس سے بھی محبت کرے گی اور جب بیٹے کا خیال کرے گی اس سے بھی محبت کرے گی۔اولیاء اللہ نے لکھا ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب مُرید اپنے پیر سے آزاد ہو جاتا ہے۔اس سے یہ مراد نہیں کہ تابع اپنے متبوع سے آزاد ہو جاتا ہے بلکہ اس کے یہ معنی ہیں کہ انسان محبت کرتے کرتے ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے کہ اُس کا خدا تعالیٰ سے براہ راست تعلق ہو جاتا ہے۔وہ۔