خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 193

$1949 193 خطبات محمود بیشک ایک شخص کو یہ یقین تو ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ حضرت موسی علیہ السلام کی دعا ئیں سُنا کرتا تھا، حضرت عیسی علیہ السلام کی دعائیں سنا کرتا تھا یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائیں سنا کرتا ہی تھایا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعائیں سنا کرتا تھا مگر اتنا یقین اسے قبولیت دعا کا حقدار نہیں بنا دیتا۔قبولیت دعا کا حقدار وہ اُسی وقت ہو گا جب اسے اپنے متعلق بھی یقین ہو کہ خدا تعالیٰ اس کی دعاؤں کو سنے گا۔اور یہ یقین تبھی پیدا ہو سکتا ہے جب اس کا خدا تعالیٰ سے صرف دماغی تعلق نہ ہو بلکہ محبت کا تعلق ہو اور وہ محسوس کرتا ہو کہ وہ خدا تعالیٰ سے پیار رکھتا ہے۔جب وہ یہ محسوس کرے گا کہ وہ خدا تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو یہ ہو نہیں سکتا کہ خدا تعالیٰ اس سے محبت نہ کرے۔دماغی طور پر محبت کا تعلق تو اپنے افسر سے بھی ہو سکتا ہے، اپنے محکمہ سے بھی ہو سکتا ہے، اپنی گورنمنٹ سے بھی ہو سکتا ہے، اپنے محلہ والوں سے بھی ہوسکتا ہے لیکن ان کے ذکر پر انسان کے اندر فدائیت پیدا نہیں ہوتی ، اس کے اندر ان سے ملنے کی رغبت پیدا نہیں ہوتی ، اس کے قلب میں رقت پیدا نہیں ہوتی لیکن وہی شخص جب اپنی بیوی کا خیال کرتا ہے یا اپنی بہن کا خیال کرتا ہے تو اس کے جذبات ویسے نہیں ہوتے جیسا کہ بازار والوں یا محلہ والوں کا خیال کرنے پر ہوتے ہیں۔مثلاً جب وہ سوچتا ہے کہ فلاں دکان پر مٹھائی اچھی ہوتی ہے یا فلاں دکان پر میوے اچھے ہوتے ہیں تو اس کے اندر وہ جذبات پیدا نہیں ہوتے جو اُس وقت پیدا ہوتے ہیں جب اُسے کوئی شخص یہ پیغام دیتا ہے کہ رستہ میں اسے اس کی ماں ملی تھی اور وہ اسے اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمُ کہتی تھی یا اس کی بیٹی آئی تھی اور کہتی تھی میرے ابا جان کو میرا سلام کہہ دینا۔وہ جذبات اور ہوتے ہیں اور یہ جذبات اور ہوتے ہیں۔دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔حلوائی کا خیال کر کے نہ اُسے رونا آتا ہے اور نہ اُسے ہنسی آتی ہے لیکن ماں یا بیٹی یا بیوی کا خیال آنے پر اُس کے اندر صرف محبت کے جذبات کی ہی پیدا نہیں ہوتے بلکہ بعض دفعہ رقت کی وجہ سے وہ بول بھی نہیں سکتا۔مثلاً اگر وہ یہ خبر سنے کہ اُس کی کی ماں یا بیٹی یا بیوی موت کے قریب ہے اور وہ اسے سلام کہتی ہے تو وہ رقت کی وجہ سے رو پڑے گا۔پس دعا کرنے والے کے اندر خدا تعالیٰ کے متعلق جب محبت کے جذبات پیدا ہوں تبھی وہ اس کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے۔اور اگر اس کے اندر محبت کے جذبات پیدا نہیں ہوتے تو وہ یہ یقین بھی نہیں کر سکتا کہ خدا تعالیٰ اس کی دعاؤں کو سنے گا اور اس کی مد کو پہنچے گا۔بچوں کو دیکھ لو انہیں