خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 192 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 192

* 1949 192 خطبات محمود ہوتی ہے جس کی وجہ سے اسے کھجلانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اسی طرح رسمی اور نسلی ایمان والوں کا حال ہوتا ہے۔چونکہ انہوں نے اپنے ماں باپ اور دوسرے بزرگوں کو دعائیں کرتے دیکھا ہوتا ہے ہے اس لیے وہ بھی دیکھا دیکھی دعا کرنے لگ جاتے ہیں۔نہ وہ یہ جانتے ہیں کہ دعا کیا ہے اور نہ ہی انہیں قبولیت دعا پر یقین ہوتا ہے۔اور اگر کوئی ایسا شخص قبولیت دعا پر یقین بھی رکھتا ہے تو اس کا ایمان محض جہلاء کا سا ہوتا ہے۔اُس پر ذرا سی جرح یا اعتراض بھی کیا جائے تو وہ فوراً کہہ دیتا ہے کہ یہ میری غلطی تھی۔دوسری قسم کے لوگ وہ ہوتے ہیں جو سمجھ بوجھ کر دعا کرتے ہیں اور یہ جانتے ہیں کہ خدا تعالیٰ دعاؤں کو قبول کیا کرتا ہے لیکن انہیں یہ علم نہیں ہوتا کہ دعا چند شرائط کے ساتھ قبول ہوتی ہے۔نہ ہر دعا قبول ہوتی ہے اور نہ ہر امر کے لیے دعا قبول ہوتی ہے۔دعا صرف انہی امور کے متعلق قبول ہوتی ہے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پہلے سے بیان فرما دیا ہے کہ وہ دعا کی حد میں آتے ہیں اور جو امور دعا کی حد سے باہر ہوتے ہیں ان کے متعلق دعا کرنے سے کچھ اثر نہیں ہوتا۔دعا کے متعلق ایک پنجابی بزرگ نے کہا ہے کہ ”جو منگے سومر رہے مرے سو منگن جائے، یعنی دعا کرنا موت کے برابر ہے۔جب تک کوئی انسان دعا میں موت قبول نہیں کرتا اُس کی دعا قبول نہیں ہوتی۔بہت سے لوگوں کی دعا ایسی ہی ہوتی ہے جیسے ہم بچپن میں آنکھ مچولی کھیلا کرتے تھے۔ایک لڑکے کی آنکھیں کپڑے سے باندھ دی جاتی تھیں اور جب وہ دوسروں کی تلاش میں جاتا تھا تو جو اسے ہاتھ لگا دیتا تھا یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ بچ گیا ہے یا اور زیادہ چھوٹی عمر کے بچے بجائے ہاتھ لگانے کے اُس پر تھو کا کرتے تھے۔اسی طرح بہت سے دعا کرنے والے خدا تعالی کی درگاہ میں تھوک کر آجاتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ ان کی دعا قبول ہوگئی۔حالانکہ قبولیت دعا کے لیے ضروری ہے کہ دعا کرنے والے کو قبولیت دعا پر یقین ہو اور وہ ہے یہ ایمان رکھتا ہو کہ خدا تعالیٰ اس کی دعا سنے گا اور پھر وہ انہی امور کے متعلق دعا کرے جو خدا تعالیٰ کی نے پہلے سے بیان فرما دیئے ہیں کہ ان کے متعلق دعاسنی جائے گی۔دوسرے دعا اس طریق پر کی جائے جو خدا تعالیٰ نے مقرر فرمایا ہے۔تیسرے دعا کرنے والے کو صرف قبولیت دعا پر ہی یقین نہ ہو بلکہ فیضانِ الہی پر اتنا یقین ہو کہ وہ سمجھتا ہو کہ خدا تعالیٰ اسے کبھی بھی خالی ہاتھ واپس نہیں کرے