خطبات محمود (جلد 30) — Page 174
$1949 174 خطبات محمود لڑائی کرنے کا الزام تو اس سے دور ہو جاتا ہے مگر لڑائی جاری رکھنے کی ضرورت اس سے ثابت نہیں ہے ہوتی۔قرآن کریم نے یہ تو کہا ہے کہ تم ظالم کا ہاتھ روکومگر قرآن کریم نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا تاتا ہے کہ اگر تم صبر کرو اور دشمن کو معاف کر دینا بہتر سمجھو تو اسے معاف کر دو۔اس نے یہ تو نہیں کہا کہ تھپڑ مارنے والے کے منہ پر تم ضرور تھپڑ مارو بلکہ اس نے یہ کہا ہے کہ اگر تم تھپڑ مارو تو تم مجرم نہیں ہے ہو گے۔اس نے یہ تو کہا ہے کہ تمہیں ظالم کے ظلم کا مقابلہ کرنے کی اجازت ہے مگر اس نے یہ نہیں کہا کہ ضرور مقابلہ کرو۔یہ صرف ایک اجازت ہے جس کے معنے یہ ہیں کہ اگر تم مقابلہ کرو گے تو ہم یہ نہیں سمجھیں گے کہ تم مجرم ہو بلکہ ہم یہ سمجھیں گے کہ تم نے ہماری اجازت سے ایک فائدہ اُٹھا لیا۔اسلام یہ کہیں بھی حکم نہیں دیتا کہ ہر حالت میں دشمن کا مقابلہ کیا جائے اور اس سے لڑائی جاری رکھی ہے جائے۔چنانچہ یزید جب بادشاہ ہوا تو حضرت امام حسین اُس سے لڑنے کے لیے تیار ہو گئے لیکن کی اور کئی صحابہ جن میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ بھی شامل تھے انہوں نے یزید کا مقابلہ نہیں کیا بلکہ پچپ کر کے اپنے گھروں میں بیٹھ گئے۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ یزید کو ظالم نہیں سمجھتے تھے۔وہ یقیناً اُسے ظالم سمجھتے تھے۔خود حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ جب معاویہ کی عمر بڑی ہوئی تو وہ ایک دفعہ مسجد نبوی میں آئے۔یزید ان کے ساتھ تھا۔انہوں نے لوگوں کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا خاندان ایسا ہے جس کی سرداری کو عرب لوگوں نے ہمیشہ قبول کیا ہے اور اسلام میں بھی ہمارے خاندان کو اللہ تعالیٰ نے بڑارتبہ دیا ہے۔ہم نے اسلام کی خاطر بڑی بڑی قربانیاں کی ہیں اور ہمیشہ اسلام کے دشمنوں کا مقابلہ کیا ہے لیکن اب میں ایسی عمر کو پہنچ چکا ہوں کہ میں سمجھتا ہوں شاید اب میں زیادہ دیر تک دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا۔میں آپ لوگوں کے سامنے یہ تجویز پیش کرتا ہوں کہ اگر آپ لوگ نا پسند نہ کریں تو میرے بعد یزید خلیفہ ہو۔حضرت عبداللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ میں اُس وقت اپنی ٹانگوں کے گرد پڑ کا باندھے بیٹھا تھا۔جب اُس نے یہ کہا تو میں نے اپنا چی پڑکا کھولا اور ارادہ کیا کہ کھڑے ہو کر معاویہ سے کہوں کہ اس بادشاہت کا یزید سے زیادہ وہ مستحق ہے جس کا باپ اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دوش بدوش جنگ کر رہا تھا جب تیرا باپ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑائی کر رہا تھا اور اس کا زیادہ مستحق وہ شخص ہے جو خود اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر دشمن سے لڑائی کر رہا تھا جب تو دشمن کی