خطبات محمود (جلد 30) — Page 165
* 1949 165 خطبات محمود کہیں گے۔مثلاً اگر یہ کہنا ہو کہ مجھے خالص گھی چاہیے تو وہ کہیں گے مجھے مخالص گھی چاہیے چنانی اچھے اچھے خاندانوں کے لوگ بھی جن میں تعلیم کم ہے نخالص کا لفظ خالص کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ کھانا تو بڑا اچھا ہے اس میں مخالص گھی پڑا ہوا ہے۔ایک اور شخص جو زبان کے اس فرق کو نہیں جانتا وہ گھبرا جاتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر اس میں نخالص گھی پڑا ہوا ہے تب تو میں بالکل نہیں کھاؤں گا۔اس قسم کے زبانوں کے اختلاف بعض دفعہ تو صرف معمولی حد تک رہتے ہیں مگر بعض دفعہ بڑے بڑے اختلاف پیدا ہو جاتے ہیں۔میں جب حج کے لیے گیا تو ایک میمنی نو کر بھی جدہ سے ہمارے قافلہ کے ساتھ چل پڑا۔رستہ میں میں اُس سے عربی زبان میں گفتگو کرتا رہا۔میں نے دیکھا کہ میری باتوں کو وہ خوب سمجھتا تی تھا مگر بعض دفعہ وہ حیرت سے مجھے دیکھنے لگتا اور میری بات کو نہ سمجھ سکتا۔اس پر میں نے کسی سے دریافت کیا کہ یہ کیا بات ہے اور باوجود عربی جاننے کے یہ بعض دفعہ میری بات کو کیوں نہیں سمجھ سکتا؟ اس نے بتایا کہ یمنی لوگوں کی زبان کا مکہ والوں کی زبان سے بڑا اختلاف ہے اور اس اختلاف کی وجہ سے بعض دفعہ عجیب واقعات بھی رونما ہو جاتے ہیں۔چنانچہ اس نے سنایا کہ تغییر کے معنے عربی زبان میں بدل دینے کے ہیں۔لیکن یمنی زبان میں اس کے معنے تو ڑ دینے کے ہیں۔ہمارے ہاں جب یہ کہیں کہ غیر تو اس کے معنے ہوں گئے بدل دے لیکن یمنی زبان میں اس کے معنے یہ ہوں گے کہ توڑ دے۔پھر اس نے لطیفہ سنایا کہ ایک دفعہ ایک یمنی نوکر مکہ کی ایک امیر عورت کے ہاں ملازم ہو گیا۔وہاں بھی حقہ پینے کا رواج ہے۔مگر ہمارے ہاں تو نہایت معمولی اور ادنیٰ قسم کے حقے ہوتے ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں حقہ استعمال کرنے والے عام طور پر غرباء ہوتے ہیں لیکن وہ چونکہ امیر ہیں اس لیے وہ نہایت اعلیٰ درجہ کے حقے استعمال کرتے ہیں اور وہ کی برتن جس میں پانی ڈالا جاتا ہے وہ بھی یورپ سے منگواتے ہیں جو شیشے کا بنا ہوا ہوتا ہے اور نوکر سارا دن حقہ کی صفائی کرتے رہتے ہیں۔لکھنو کے نواب بھی بڑے اعلیٰ درجہ کے حقے استعمال کیا کرتے یا تھے اور بعض دفعہ پانی کی بجائے گلاب کا عرق اس میں ڈالا کرتے تھے مگر چونکہ دھواں گزرنے کی کی وجہ سے پانی کچھ عرصہ کے بعد خراب ہو جاتا ہے اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ اسے بدل دیا جائے۔اس عورت کو بھی ایک دن پانی بدلنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس نے اپنے نوکر کو آواز دی ہے