خطبات محمود (جلد 30) — Page 144
1949ء 144 خطبات محمود آپ پر ایمان لاتے ہیں۔ غرض منافق کو پہچان لینا کوئی بڑی بات نہیں ۔ ہر وہ آدمی جو تمہارے ملنے والے کی تمہارے پاس بُرائی بیان کرتا ہے تمہیں سمجھ لینا چاہیے کہ وہ منافق ہے۔ اگر وہ سچا ہوتا ، اگر وہ نیک ہوتا تو وہ اصل آدمی کے پاس جاتا اور اُسے اصلاح کی طرف توجہ دلاتا۔ اس علامت کے ہوتے ہوئے جو شخص ایک منافق کو پہچان نہیں سکتا وہ سب سے بڑا احمق ہے۔ تمہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اگر وہ دوسرے کی برائیاں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے تو وہ تمہاری بُرائیاں دوسروں کے سامنے بیان کرتا ہو گا۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے کہ وہ دوسروں کی بُرائیاں تو تمہارے سامنے بیان کرے اور تمہاری بُرائیاں دوسروں کے سامنے بیان نہ کرے۔ درحقیقت تم اسے دوست سمجھ رہے ہوتے ہو اور وہ تمہیں احمق سمجھ رہا ہوتا ہے۔ وہ تمہیں بیوقوف بنا رہا ہوتا ہے اور تم واقع میں بے وقوف ہوتے ہو کیونکہ تم اس کی بات سُن لیتے ہو۔ جب وہ تمہارے پاس آتا ہے اور دوسرے کی برائیاں بیان کرتا ہے تو تم اسے کہہ دو میں تمہاری باتیں سننے کے لیے تیار نہیں ہوں ۔ تم منافق ہو۔ اگر تمہاری نیت نیک ہے تو تم اصل آدمی کے پاس جا کر اسے اصلاح کی طرف توجہ دلاؤ۔ مومن کا یہ طریق ہونا چاہیے کہ جب اس کے پاس ایسا آدمی آئے وہ اسے کہہ دے اگر تم میرے سامنے میری بُرائیاں بیان کرنا چاہتے ہو تو میں سننے کے لیے تیار ہوں اور دوسرے کی اگر نیکیاں بیان کرنا چاہتے ہو تب بھی میں سننے کے لیے تیار ہوں لیکن دوسرے کے عیوب سننے کے لیے تیار نہیں ہوں ۔ اس کے عیوب سنانے ہیں تو اُسی کے پاس جاؤ اور اسے اصلاح کی طرف توجہ دلاؤ میں اس کی اصلاح کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ بہر حال منافق کی پہچان کوئی بڑی بات نہیں۔ ہر جاہل سے جاہل آدمی بھی اسے پہچان لیتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی بعض اور علامات بھی بیان کی ہیں۔ مثلاً آپ فرماتے ہیں کہ منافق جب بات کرتا ہے جھوٹ بولتا ہے ۔ 7 وَإِذَا خَاصَمَ فَجَرَ 8 اور جب وہ کسی سے جھگڑا کرتا ہے، گالی گلوچ پر اتر آتا ہے ۔ اسی طرح وہ دوسرے پر اتہام لگاتا ہے، دوسرے کی عیب چینی کرتا ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے وہ یہ کام کسی نیک نیتی کی بناء پر نہیں کرتا بلکہ اس کا مقصد بے چینی اور بدظنی پھیلانا ہوتا ہے۔ جیسے فرمایا أَنْ تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ و تابے چینی اور بدظنی پھیلے۔ اگر وہ نیک نیت ہے تو کیوں اصل آدمی کے پاس جا کر اس کی بُرائی بیان نہیں کرتا۔