خطبات محمود (جلد 30) — Page 143
$1949 143 خطبات محمود نہ کرو اور وہ کہے بھلا اس کے بغیر بھی کام چلتا ہے اور اس طرح وہ قرآن کریم کے ایک ایک حکم کو رڈ کرے اور پھر کہے میں لَا اِلهَ إِلَّا اللہ پر ایمان رکھتا ہوں تو وہ جھوٹا ہے۔لَا إِلهَ إِلَّا اللهُ کا ہر حرف اُس پر لعنت کرتا ہے۔اِس کا ہمزہ اُس پر لعنت کرتا ہے۔اِس کا لام اُس پر لعنت کرتا ہے، اس کا دوسر الام اُس پر لعنت کرتا ہے۔ایک طرف وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں اور قرآن کریم کو مانتا ہے ہوں دوسری طرف وہ کہتا ہے کہ نَعُوذُ بِاللہ اس کی ہر آیت جھوٹی ہے۔قرآن کریم کہتا ہے سچ بولو مگر وہ کہتا ہے میں سچ نہیں بولوں گا۔پھر وہ کہتا ہے میں مسلمان ہوں۔یہ منافقت نہیں تو اور کیا ہے۔اگر یہ علامات تم میں پائی جاتی ہیں تو تم منافق ہو۔اگر تمہارا ہمسایہ قرآن کریم کے متعلق کہتا ہے کہ بھلا اس کی تعلیم پر چل کر گزارہ ہوسکتا ہے تو وہ بھی منافق ہے۔اگر واقعی اس کے ساتھ کام نہیں چلتا تو خدا تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹے ہیں۔لیکن اگر خدا تعالی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سچے ہیں تو کام قرآن کریم سے ہی چلے گا۔اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ قرآن کریم پر چلنے سے کام نہیں چلتا وہ جھوٹا ہے۔قرآن کریم نے جو کچھ کہا ہے وہ بہر حال سچا ہے۔اگر تم اپنے آپ کو ٹولو تو دس آدمیوں میں سے پانچ چھ ایسے ہوں گے جو جہالت کی وجہ سے یہ نہیں سمجھتے کہ وہ منافقانہ رویہ اختیار کر رہے ہیں۔اگر وہ اس بات کو جان لیں تو ضرور اپنی اصلاح کر لیں جیسے بعض بیمار ایسے ہوتے ہیں جو بیماری کا علم نہ ہونے کی وجہ سے بیماری کا علاج نہیں کراتے۔اصل حقیقت یہ ہے کہ جب تک منافقت کو دور نہ کیا جائے مُجرم اور عدم مجرم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ بعض لوگ تیرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں۔یہ کتنی سچی بات ہے آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول تھے۔اس میں طلبہ کی کوئی گنجائش نہ تھی لیکن خدا تعالی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے منافق تیرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں لیکن میں گواہی کے وہ دیتا ہوں کہ وہ اپنے اس قول میں جھوٹے ہیں۔دراصل بات تو وہ سچی کہتے تھے لیکن جب منہ سے یہ بات کہتے تھے تو اُن کے دل اس بات کو نہیں مانتے تھے۔وہ منہ سے یہ کہتے تھے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں مگر خدا تعالیٰ کہتا ہے وہ جھوٹے ہیں۔اگر یہ بچے ہوتے تو یہ کہتے کہ ہم