خطبات محمود (جلد 30) — Page 128
1949ء 128 خطبات محمود دوسروں کی اس کے سامنے حیثیت ہی کیا ہے ان کے اخلاق گجا اور اُن کے اخلاق گجا ۔ تو پھر بے شک تمہارا دعوی صحیح ہو سکتا ہے کہ ہم زندہ ہیں اور مردہ زندہ کے برابر نہیں ہو سکتا ۔ لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر دو باتوں میں سے ایک ضرور ہو گی ۔ یا تو وہ سلسلہ جس میں تم داخل ہوئے ہو نَعُوذُ بِاللهِ جھوٹا ہے اور تمہارا یہ دعوای غلط ہے کہ وہ سلسلہ تمہیں زندگی دیتا ہے۔ اور یا وہ سلسلہ تو سچا ہے لیکن تم جھوٹے ہو کیونکہ تم میں وہ آثار نہیں پائے جاتے جو ایک زندہ میں پائے زندہ یا جانے چاہیں ۔ پس اس معیار کو سامنے رکھ کر تم اپنے اردگرد کے لوگوں کو دیکھو اور پھر معلوم کرو کہ کیا تم میں اور ان میں کوئی فرق پایا جاتا ہے؟ کیا تم میں ان سے زیادہ صداقت پائی جاتی ہے؟ کیا تم میں ان سے زیادہ محنت پائی جاتی ہے؟ کیا تم اُن سے زیادہ وقت کی قدر کرتے ہو؟ کیا تم ان سے زیادہ دیانتدار ہو؟ کیا تم میں ان سے زیادہ رحم پایا جاتا ہے؟ کیا تم ان سے زیادہ امین ہو؟ کیا تم ان سے زیادہ کریم ہو؟ کیا تم ان سے زیادہ عقلمند اور فہیم ہو؟ کیا تم ان سے زیادہ دور اندیش ہو ؟ اگر تمہیں جواب ملے کہ ہاں ۔ ہاں ۔ ہاں ۔ تو سمجھ لو کہ تم جس جگہ بھی ہو گے زندہ ہو اور سچے طور پر زندہ ہو ۔ تم دریا سے باہر رہ کر گیلے ہونے کا دعوی نہیں کر رہے۔ تم ابھی پانی میں غوطہ لگا کر باہر آئے ہو۔ لیکن اگر ایسا نہیں تو تمہارا یہ دعوی افیونیوں کی طرح ہوگا جو ریت پر بیٹھ کر خیال کر لیتے ہیں کہ ان کا جسم گیلا ہے ۔ اگر تم سچ مچ پانی میں گھس جاتے ہو تو وہ لازماً تمہیں گیلا کر دے گا لیکن اگر ایسا نہیں اور تمہیں اس کا جواب نفی میں ملتا ہے تو تمہیں سوچنا چاہیے کہ جسے تم نے صداقت سمجھا ہے کیا وہ فریب اور جھوٹ تو نہیں ۔ اگر تمہاری عقل کہتی ہے کہ وہ سچ ہے تو تمہیں اپنے نفس کو کہنا چاہیے اے نفس ! تو ہی جھوٹا ہے ۔ تو نے جو یہ سمجھا تھا کہ میں پانی میں کود پڑا ہوں درست نہیں تو ابھی باہر ہی کھڑا ہے ۔ تو نے ابھی عرفان کے دریا میں چھلانگ نہیں لگائی ۔ اگر تم یہ سوچو تو تم میں کتنی راستی پیدا ہو جائے ۔ اگر تم اس نتیجہ پر بھی پہنچ جاؤ کہ زندہ مردہ سے بہر حال بہتر ہوتا ہے۔ تب بھی تمہارا کیریکٹر پہلے سے بہت زیادہ اونچا ہو جائے گا۔ تم پہلے سے زیادہ جدوجہد کے لیے تیار ہو جاؤ گے ۔ تم پہلے سے زیادہ محنت کے لیے تیار ہو جاؤ گے