خطبات محمود (جلد 30) — Page 123
1949ء 123 خطبات محمود بیٹے ہو۔ بس اس فقرہ میں سارا مضمون آجاتا تھا۔ یعنی کسی کا بیٹا ہونے کی وجہ سے بھی انسان پر بعض ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور اس کے فعل کو لوگ اس کے باپ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔ چنانچہ کبھی تو والدین کے افعال بیٹوں کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور کبھی بیٹوں کے افعال والدین کی طرف منسوب ہوتے ہیں اور اس طرح وہ ایک دوسرے کی نیک نامی یا بدنامی کا موجب ہوتے ہیں۔ اس فقرہ میں اس مضمون کی طرف اشارہ ہوتا تھا اور اس کے معنے ہم سمجھتے تھے کہ کیا ہیں۔ کہتے ہیں کوئی شخص کفن چور تھا۔ جب کوئی آسودہ حال شخص مرتا تو وہ اس کی قبر کھود کر کفن ا پھر الیا کرتا اور مردہ کو دوبارہ قبر میں گاڑ کر اس پر مٹی ڈال دیتا۔ اس کفن چور کا لڑکا اس کی نسبت زیادہ شریف تھا اور اپنے باپ کے پیشے سے احتراز کیا کرتا تھا۔ جب باپ مرا اور کفن چوری بند ہوگئی اور مردوں کی ہتک جاتی رہی تو لوگوں نے سمجھ لیا کہ کفن چور فوت ہو گیا ہے۔ اس کفن چور کے متعلق کسی شخص کو معلوم تو تھا نہیں کہ وہ کون ہے کیونکہ وہ یہ کام چوری چھپے کرتا تھا اور اس کے بیٹے کے متعلق بھی کوئی یہ نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہے۔ اور آیا وہ بھی کفن چور ہے یا نہیں۔ بیٹا یہ جانتا تھا کہ س کا باپ کفن چور تھا۔ جب وہ فوت ہو گیا تو لوگ آپس میں باتیں کرنے لگے کہ اچھا ہوا وہ مر گیا۔ اس کا بیٹا جو جو کفن چور نہیں تھا جب یہ باتیں سنتا تو یہ الفاظ اُس پر گراں گزرتے۔ ایک دفعہ وہ اپنے ایک دوست کے پاس گیا اور اس سے کہا کہ اس اس طرح واقعہ ہوتا ہے اور میں یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی شخص میرے باپ کو خواہ وہ کیسا ہی تھا گالیاں دے۔ مجھے کوئی ایسا علاج بتاؤ جس کے ذریعہ میں ان باتوں سے نجات حاصل کر سکوں۔ اس نے کہا کچھ دن تم بھی یہ کام کر لو۔ تمہارے باپ کے عیوب چُھپ جائیں گے لیکن ایسا کام کرو جو پہلے سے زیادہ سخت ہو۔ اُس نے اس نصیحت پر عمل کیا اور کفن چوری کا کام شروع کر دیا۔ اس نے یہ کام کسی بری نیت سے نہیں کیا بلکہ اپنے باپ کے عیوب چھپانے کے لیے یہ کام شروع کیا۔ وہ کفن چرا لیتا اور مردے کو ننگا چھوڑ کر آجاتا۔ اس کا باپ تو کفن اُتار کر مُردے کو دوبارہ قبر میں دفن کر دیتا تھا لیکن وہ یونہی آجاتا۔ جب مُردوں کی دوبارہ ہیک ہونے لگی ، جب چیلیں انہیں نوچتیں ، کتے اُن پر حملہ آور ہوتے تو لوگ دعا کرتے کہ خدا فلاں شخص پر رحم کرے وہ کفن چور تو تھا مگر ہمیشہ مردوں پر مٹی ڈال دیا کرتا تھا۔ اب پتا لگا ہے کہ وہ کتنا شریف انسان تھا۔ اس طرح آہستہ آہستہ اس کے عیوب چُھپ گئے اور لوگوں نے اسے گالیاں دینا