خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 122 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 122

1949ء 122 (13) خطبات محمود وہی قوم زندہ کہلانے کی مستحق ہے جو اپنی خوبیوں میں دوسروں سے بلند اور ممتاز ہو (فرمودہ 20 مئی 1949ء بمقام لاہور ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم میں بار بار یہ مضمون دہرایا گیا ہے کہ کیا مر دے زندوں کے برابر ہو سکتے اسا فقرہ ہے اور بظاہر یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے ہر شخص واقف ہے۔ ہیں ؟1 ؟ 1 بظاہر یہ ایک چھوٹا سا لیکن اگر سوچا جائے تو یہی چھوٹا سا مضمون اکثر اوقات دنیا کی نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات قو میں اس چھوٹی سی چیز کو نظر انداز کر دینے کی وجہ سے اپنے مقام کو کھو بیٹھتی ہیں ۔ دنیا میں اپنے مقام کو قائم رکھنے بلکہ سابق معیار سے اونچا ہونے کے لیے سہل ترین اور سب سے آسان ذریعہ یہی ہوا کرتا ہے کہ انسان اپنے اس مقام کی کیفیت کو یاد رکھے جس پر وہ کھڑا ہو۔ یہی بات یاد رکھنے سے انسان کی اس جدوجہد میں تیزی پیدا ہوتی ہے جو اپنے مقام کو قائم رکھنے کے لیے وہ کیا کرتا ہے۔ مجھے خوب یاد ہے حضرت خلیفہ المسح الاول جب کوئی ایسی بات دیکھتے جو ان کے خیال میں ہمیں نہیں کرنی چاہیے تھی تو وہ یہ فقرہ کہا کرتے تھے کہ میاں ! تمہیں معلوم ہے کہ تم کس کے