خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 111 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 111

* 1949 111 خطبات محمود دعوی کرے اور وہ فورا اپنے خیالات کو چھوڑ دیں گے۔وہ شخص مجلس میں اپنے دوستوں سمیت آیا ، کتاب کے ورق اس کی جیب میں تھے۔وہ سب آپس میں مسکرا مسکرا کر باتیں کرنے لگے اور مجھے کہا کہ ہم نے آپ سے ایک بات پوچھنی ہے۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی اور شخص نبوت کا دعوی کرے تو آپ کا اُس کے متعلق کیا خیال ہے؟ آپ فرمایا کرتے تھے مجھے یہ و ہم بھی نہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نبوت کا دعوی کیا ہے یا کہیں لکھا ہے کہ آپ مامور من اللہ اور نبی ہیں۔میں نے اصولی طور پر انہیں جواب دیا اور کہا کہ یہ تو اُس شخص پر منحصر ہے جس نے دعوی کیا ہے۔ہمیں پہلے یہ معلوم کرنا ہوگا کہ وہ ہے کیسا ؟ اگر وہ راستباز ہے تو پھر جو کچھ وہ کہتا ہے ٹھیک کہتا ہے۔اور اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ خواہ چھوٹی سی بات بھی کہے تو وہ جھوٹی ہے۔انہوں نے کہا قرآن کریم میں تو لکھا ہے اور حدیثوں میں بھی آتا ہے اور آپ کا بھی عقیدہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اور کوئی نبی نہیں آئے گا۔میں نے کہا اگر وہ شخص واقع میں راستباز ہے تو جو کچھ وہ کہتا ہے ٹھیک کہتا ہے اور میرا عقیدہ غلط ہے۔اس پر انہوں نے کہا یہ تو ہے بالکل ہی گیا گزرا ہے یہ اب واپس نہیں آسکتا۔لیکن یہ ایک سیدھا سادا مسئلہ ہے۔اگر کوئی شخص تعصب سے بالکل خالی ہو کر دیکھے تو وہ ہے سمجھ سکتا ہے کہ اگر کوئی شخص واقع میں سچا اور راستباز ہے تو اس کی ہر بات کچی ہے۔یہ نہیں ہوسکتا کہ وہ راستباز بھی ہو اور غلط باتیں بھی کہے۔پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بچے ہیں اور راستباز ہیں تو آپ نے جو کچھ کہا پورا ہو کر رہے گا۔حوادثات زمانہ جھوٹے ہیں، ہمارے کان جھوٹے ہیں، ہماری آنکھیں جھوٹی ہیں مگر خدا تعالیٰ کی بات سچی ہے۔پھر یہاں تو خدا تعالیٰ نے صرف اتنی بات ہی نہیں رکھی بلکہ کثرت سے مجھے بھی اس نے خبریں دیں جن سے صاف پتا لگتا ہے کہ ان باتوں کا کہنے والا کوئی پاگل اور جھوٹا نہیں ہو سکتا۔اور اگر ہم نے کوئی بات غلط سمجھی ہو تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہمارا خیال غلط ہے۔بچے کی بات بہر حال سچی ہوگی ورنہ وہ راست باز کیسے کہلا سکتا ہے۔ان پیشگوئیوں کے مطابق جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرما ئیں یقیناً وہ کی زمانہ آنے والا ہے کہ وہی چیز جو دنیا کی نظروں میں ناممکن نظر آتی ہے ممکن نظر آنے لگ جائے گی۔بلکہ لوگ یہ کہنے لگ جائیں گے کہ ایسا تو ہو ہی جانا تھا کیونکہ حالات ہی اس قسم کے تھے۔بھلا آج