خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 110

$ 1949 110 خطبات محمود وقت ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز پڑھائی اور نماز کے بعد آپ مجلس میں بیٹھ گئے۔گو اُس عمر میں میں باقاعدہ مجلس میں حاضر نہیں ہوتا تھا لیکن کبھی کبھی مجلس میں بیٹھ جاتا تھا۔اُس دن میں بھی مجلس میں بیٹھ گیا۔اُس دن جو لوگ رو رو کر دعائیں کرتے رہے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُن کے فعل پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کیا خدا تعالیٰ سے بھی بڑھ کر کسی انسان کو اس کے کلام کے لیے غیرت ہو سکتی ہے؟ خدا تعالیٰ نے جب یہ بات کہی ہے کہ ایسا ہوگا تو ہمیں ایمان رکھنا چاہیے کہ ایسا ضرور ہو گا۔اور اگر ہم نے خدا تعالیٰ کی بات کو غلط سمجھا ہے تو خدا تعالیٰ اس بات کا پابند نہیں ہو سکتا کہ وہ ہماری غلطی کے مطابق فیصلہ کرے۔ہمارا کام صرف اتنا ہے کہ جب ہم نے ایک شخص کو راستباز مان لیا ہے تو اس کی باتوں پر یقین رکھیں۔غرض مومن کا کام یہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ پر توکل کرے۔خدا تعالیٰ کی بات بہر حال پوری ہو کر رہتی ہے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے کر عمرہ کے لیے مکہ تشریف لے گئے اور عمرہ نہ ہو سکا تو اس سے حضرت عمرؓ کو سخت صدمہ ہوا۔آپ حضرت ابو بکر کی کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا یہ کیا ہوا ہے؟ اس پر حضرت ابوبکر نے فرمایا عمر! یہ بتاؤ یہ آدمی سچا ہے یا نہیں؟ اگر تمہیں یقین ہے کہ یہ آدمی سچا ہے تو پھر اس گھبراہٹ کے کیا معنے ہیں؟ بہر حال جو کچھ وہ کہتا ہے وہی ٹھیک ہے۔ایسا ہی ایک واقعہ حضرت خلیفہ مسیح الاول کا ہے۔حضرت خلیفہ المسح الاول فرمایا کرتے تھے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نبوت کا دعوی کیا اور آپ کی کتب فتح اسلام اور توضیح مرام شائع ہوئیں تو اُس وقت میں جموں میں تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بیعت کر چکا تھا۔میرے غیر احمدی دوست مجھے ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ آپ نے مرزا صاحب کو ماننے میں غلطی کی ہے۔ان میں سے ایک لاہور آیا اور امرتسر سے جہاں وہ کتا بیں چھپ رہی تھیں ان کے بعض فرمے لے گیا اور جموں واپس جا کر اپنے دوستوں سے کہنے لگا کہ اب میں نورالدین کو زیر کرلوں گا۔اب میں ایسا سامان لایا ہوں کہ وہ بچ نہیں سکتا۔ان کا خیال تھا کہ مرزا صاحب نے چونکہ مامور من اللہ اور نبی ہونے کا دعوی کیا ہے اور مولوی نورالدین صاحب کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت عشق ہے اس لیے وہ یہ کبھی برداشت نہیں کر سکیں گے کہ آپ کے بعد کوئی شخص نبوت کا