خطبات محمود (جلد 30) — Page 110
$ 1949 110 خط<mark>بات</mark> محمود وقت ہوا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز پڑھائی اور نماز کے بعد آپ مجلس میں بیٹھ گئے۔گو اُس عمر میں میں باقاعدہ مجلس میں حاضر نہیں ہوتا تھا لیکن کبھی کبھی مجلس میں بیٹھ جاتا تھا۔اُس دن میں بھی مجلس میں بیٹھ گیا۔اُس دن جو لوگ رو رو <mark>کر</mark> دعائیں <mark>کر</mark>تے رہے تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اُن کے فعل پر ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کیا <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> سے بھی بڑھ <mark>کر</mark> کسی انسان کو <mark>اس</mark> کے کلام کے لیے غیرت ہو سکتی ہے؟ <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> نے جب یہ <mark>بات</mark> کہی ہے کہ ایسا ہوگا تو ہمیں ای<mark>مان</mark> رکھنا چاہیے کہ ایسا ضرور ہو گا۔اور اگر ہم نے <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> کی <mark>بات</mark> کو غلط سمجھا ہے تو <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> <mark>اس</mark> <mark>بات</mark> کا پابند نہیں ہو سکتا کہ وہ <mark>ہماری</mark> <mark>غلطی</mark> کے مطابق <mark>فیصلہ</mark> <mark><mark>کر</mark>ے</mark>۔<mark>ہمارا</mark> <mark>کام</mark> <mark>صرف</mark> <mark>اتنا</mark> ہے کہ جب ہم نے ایک <mark>شخص</mark> کو <mark>ر<mark>اس</mark>تباز</mark> <mark>مان</mark> <mark>لیا</mark> ہے تو <mark>اس</mark> کی <mark><mark>بات</mark>وں</mark> پر <mark>یقین</mark> <mark>رکھیں</mark>۔<mark>غرض</mark> <mark>مومن</mark> کا <mark>کام</mark> یہ ہے کہ وہ <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> پر <mark>توکل</mark> <mark><mark>کر</mark>ے</mark>۔<mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> کی <mark>بات</mark> بہر حال <mark>پوری</mark> ہو <mark>کر</mark> <mark>رہتی</mark> ہے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر جب رسول <mark>کر</mark>یم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو لے <mark>کر</mark> عمرہ کے لیے مکہ تشریف لے گئے اور عمرہ نہ ہو سکا تو <mark>اس</mark> سے حضرت عمرؓ کو سخت صدمہ ہوا۔آپ حضرت ابو ب<mark>کر</mark> کی کے پ<mark>اس</mark> تشریف لے گئے اور فرمایا یہ کیا ہوا ہے؟ <mark>اس</mark> پر حضرت ابوب<mark>کر</mark> نے فرمایا عمر! یہ بتاؤ یہ آدمی سچا ہے یا نہیں؟ اگر تمہیں <mark>یقین</mark> ہے کہ یہ آدمی سچا ہے تو پھر <mark>اس</mark> گھبراہٹ کے کیا معنے ہیں؟ بہر حال جو کچھ وہ کہتا ہے وہی ٹھیک ہے۔ایسا ہی ایک واقعہ حضرت خلیفہ مسیح الاول کا ہے۔حضرت خلیفہ المسح الاول فرمایا <mark>کر</mark>تے تھے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نبوت کا دعوی کیا اور آپ کی کتب فتح <mark>اس</mark>لام اور توضیح مرام شائع ہوئیں تو اُس وقت میں جموں میں تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی بیعت <mark>کر</mark> چکا تھا۔میرے غیر احمدی دوست مجھے ہمیشہ یہ کہا <mark>کر</mark>تے تھے کہ آپ نے مرزا صاحب کو <mark>مان</mark>نے میں <mark>غلطی</mark> کی ہے۔ان میں سے ایک لاہور آیا اور امرتسر سے جہاں وہ کتا بیں چھپ رہی تھیں ان کے بعض فرمے لے گیا اور جموں واپس جا <mark>کر</mark> اپنے دوستوں سے کہنے لگا کہ اب میں نورالدین کو زیر <mark>کر</mark>لوں گا۔اب میں ایسا سا<mark>مان</mark> لایا ہوں کہ وہ بچ نہیں سکتا۔ان کا خیال تھا کہ مرزا صاحب نے چونکہ مامور من اللہ اور نبی ہونے کا دعوی کیا ہے اور مولوی نورالدین صاحب کو رسول <mark>کر</mark>یم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت عشق ہے <mark>اس</mark> لیے وہ یہ کبھی برداشت نہیں <mark>کر</mark> سکیں گے کہ آپ کے بعد کوئی <mark>شخص</mark> نبوت کا