خطبات محمود (جلد 30) — Page 109
* 1949 109 خطبات محمود زیادتی پیدا کر لو، اگر تم تقوی میں زیادتی پیدا کرلو تو تم خدا تعالیٰ کے ان نشانات کو دیکھو گے تم اپنے ای ایمان کو تازہ کرو گے، اپنی اولاد کے ایمان کو تازہ کرو گے اور دوسروں کو اپنی طرف کھینچ کر لانے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔مومن کا کام اللہ تعالیٰ پر توکل کرنا ہوتا ہے۔کام تو خدا تعالیٰ کرتا ہے لیکن ہمارا فرض بہ ہے کہ ہم وہی کچھ کریں، ہم وہی کچھ سوچیں اور ہم وہی کچھ کہیں جو خدا تعالیٰ نے کہا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آتھم کے متعلق پیشگوئی فرمائی اور پیشگوئی کی میعاد گزر گئی۔میں اُس وقت چھ سات سال کی عمر کا تھا۔مجھے وہ نظارہ خوب یاد ہے۔جس جگہ قادیان میں بکڈپو ہوا کرتا تھا اس کے ساتھ والے کمرہ میں موٹر ہوا کرتے تھے اور اس کے مغرب والے کمرہ میں ہے حضرت خلیفۃ اسبح الاول پہلے درس دیا کرتے تھے یا مطب کیا کرتے تھے۔آخری ایام میں مولوی قطب الدین صاحب مرحوم وہاں مطب کرتے رہے ہیں۔اس کے ساتھ پھر ایک کوٹھڑی تھی جس میں کتابیں رکھی ہوتی تھیں۔اور جس کمرے میں اب موٹر ہوتے تھے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا پریس تھا اور اس کمرے میں جہاں حضرت خلیفہ المسیح الاول مطب فرمایا کرتے تھے فرمہ بندی 3 ہو جاتی تھی اور پھر کوٹھری میں کتا بیں رکھ دی جاتیں تھیں۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے بعض شاگرد بھی وہاں رہا کرتے تھے۔اور چونکہ اُن دنوں بہت کم لوگ ہوا کرتے تھے اس لیے عام طور پر جو لوگ وہاں آتے تھے حضرت خلیفہ المسیح الاول کے شاگرد بن جاتے تھے یہی مدرسہ تھا اور حضرت خلیفہ اسیح الاول ہی پڑھایا کرتے تھے۔اس کے علاوہ اور کوئی مدرسہ نہیں تھا۔وہ لوگ آپ کے شاگر د بھی ہوتے تھے اور سلسلہ کے خادم بھی ہوتے تھے۔مجھے خوب یاد ہے کہ میں چھوٹا سا تھا کہ جب آٹھم کی پیشگوئی کا وقت پورا ہوا۔غالباً یہ 1894ء کے آخر یا 1895ء کے شروع کی بات ہے۔میں اُس وقت ساڑھے پانچ یا چھ سال کا تھا۔ابھی تک وہ نظارہ مجھے یاد ہے۔اُس وقت تو میں اسے نہیں سمجھتا تھا کیونکہ میری عمر بہت چھوٹی تھی لیکن اب واقعات سے میں سمجھتا ہوں کہ جس دن آتھم کی پیشگوئی کے پورا ہونے کا آخری دن تھا یعنی پندرہ مہینے ختم ہونے تھے اُس دن اتنا گہرام مچا ہوا تھا کہ لوگ رورو کر چیخیں مار رہے تھے اور دعا کرتے تھے کہ خدایا! آتھم مر جائے۔یہ عصر کے بعد اور مغرب سے پہلے کی بات ہے۔پھر نماز کا کی