خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 87 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 87

* 1949 87 (10) خطبات محمود اس بات کو مد نظر رکھو کہ تم نے بے مرکز کبھی نہیں رہنا (فرمودہ 15 اپریل 1949 ء بمقام ربوہ) تشهد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جیسا کہ میں نے احباب سے دعا کے وقت کہا تھا یہ جلسہ ہمارے لیے نہایت ہی اہمیت کھتا ہے کیونکہ ہم ربوہ کو تفاؤل کے طور پر اپنا نیا مرکز قرار دے رہے ہیں۔یوں بھی جن جگہوں کو ذکر الہی کے لیے چنا جاتا ہے اُن میں لغو باتیں کرنا منع ہوتی ہیں۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مساجد کے متعلق جہاں لوگ جمع ہوتے اور ذکر الہی کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ وہاں دنیاوی باتیں نہیں کرنی چاہیں۔احادیث میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اپنی ای شدہ چیز کا مسجد میں اعلان کرتا ہے خدا تعالیٰ اُس کے مال میں برکت نہ دے۔1 گویا مسجد میں اپنی گم شدہ اشیاء کا اعلان کرنا منع ہے۔پس اگر مساجد جو صرف ایک محلہ سے تعلق رکھتی ہیں یا صرف ایک قصبہ سے تعلق رکھتی ہیں یا صرف ایک شہر سے تعلق رکھتی ہیں اُن کا احترام اتنا ضروری ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رمایا مساجد میں گم شدہ اشیاء کا اعلان نہیں کرنا چاہیے تو وہ مقام جس کو ایک بڑے بھاری علاقہ کے لیے بلکہ ایک محدود وقت کے لیے ساری دُنیا کا مرکز بنایا جا رہا ہے اُس میں کس قدر زیادہ ذکر الہی کی ضرورت ہے۔چاہیے کہ وہ احباب جو جلسہ پر یہاں تشریف لائے ہوئے ہیں ذکر الہی ہے