خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 83 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 83

$ 1949 83 خطبات محمود خدا تعالیٰ کو کیا فائدہ پہنچے گا۔کبھی ان کا بچہ پڑھے گا اور کبھی ان کے ہمسایہ کا بچہ پڑھے گا۔اسی طرح دولت بڑھے گی تو انہی کا فائدہ ہوگا۔بچوں کی تربیت ہوگی تو جماعت کو ہی اس کا فائدہ ہوگا۔خدا تعالیٰ کو اس میں سے کچھ بھی نہیں جانا یہ سب جماعت کو ہی ملتا ہے۔یا پھر لنگر پر خرچ ہوتا ہے مگر کیا لنگر میں خدا تعالی آکر کھانا کھاتا ہے؟ چندہ دینے والے ہی جلسہ پر آکر کھانا کھاتے ہیں۔یہ جلسہ کے موقع پر روشنی کا انتظام کیا جاتا ہے تو اس کا فائدہ بھی چندہ دینے والوں کو ہی ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ کو اس سے کیا فائدہ؟ مفت کا ثواب مل جاتا ہے ورنہ تمہارے ہی پیسے ہوتے ہیں اور تمہارے ہی کام آتے ہیں۔تم جو چندہ دیتے ہو اس سے ہم مثلاً گیہوں خریدتے ہیں اور پھر اس سے تمہارے لیے روٹی تیار کرتے ہیں یا مسالا وغیرہ خرید کر تمہارے لیے سالن تیار کرتے ہیں۔پھر اگر ان چندوں میں سے تمہارے اجتماع کے موقع پر صفائی کرائی جاتی ہے تو اس کا خدا تعالیٰ کو کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ تم ہی بیماریوں اور گندگی سے بچتے ہو خدا تعالیٰ کو تم کیا دیتے ہو۔روشنی کی جائے گی تو اس سے خدا تعالیٰ کو کیا فائدہ پہنچے گا ؟ صفائی ہوگی تو وہ بھی تمہارے لیے ہی مفید ہو گی۔جلسہ ہوگا تو تم ہی جا کر وہاں باتیں سنو گے خدا تعالیٰ کو کیا ملا ؟ یا مدرسہ ہے تو کیا اللہ تعالیٰ کے لڑکے وہاں پڑھا کرتے ہیں؟ تمہارے ہی لڑکے پڑھتے ہیں مگر نام یہ دے دیا جاتا ہے کہ تم نے خدا تعالیٰ کو دے دیا اور خدا تعالیٰ بھی کہتا ہے کہ تم نے مجھے دیا۔اس سے عجیب سودا دنیا میں اور کیا ہوگا۔دنیا میں سب لوگ ہی کچھ رقوم قومی کاموں پر خرچ کرتے ہیں۔مگر فرق کیا ہوتا ہے؟ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ دوسرے لوگ دیتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انسانوں کو دیا مگر تم دیتے ہو تو کہا جاتا ہے کہ تم نے خدا تعالیٰ کو دیا۔اور خدا تعالیٰ بھی کہتا ہے کہ میں تمہیں اس کا بدلہ دوں گا اور تمہارا دیا ہوا تمہیں واپس ملے گا۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے یا يُّهَا النَّاسُ أَنتُمُ الْفُقَرَآءُ إِلَى اللهِ اے انسانو! تم دنیا کی ظاہری دولت پر گھمنڈ مت کرو یہ دولت دولت نہیں۔یہ تو اسی بات پر دلالت کرتی ہے کہ تم محتاج ہے ہو اور محتاج ناقص اور کمزور ہوتا ہے۔جتنی زیادہ دولت تمہارے پاس ہو گی اتنے ہی تم محتاج ہو گے۔ایک غریب آدمی کے پاس اگر ایک روپیہ ہوتا ہے تو اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ ایک روپیہ کا محتاج ہے اور ایک امیر کے پاس اگر ایک کروڑ روپیہ ہے تو وہ ایک کروڑ روپیہ کا محتاج ہے۔ایک روپیہ والا