خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 67 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 67

$ 1949 67 خطبات محمود فرض ہوتا ہے کہ جیسی عمر ہو ویسی ہی نصیحتیں کریں۔ایک چھوٹا بچہ جس وقت ہوش سنبھالتا ہے اس کے ساتھ بھی کچھ امور کا تعلق ہوتا ہے۔چنانچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے نواسہ حضرت حسنؓ سے جبکہ وہ اڑھائی تین سال کے تھے فرمایا كُلِّ بِيَمِينِكَ وَمِمَّا يَلِيكَ 2 اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور تھالی میں سے وہ حصہ کھاؤ جو تمہارے قریب ہے۔بچے کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بوٹی اٹھانے کے لیے پلیٹ میں کبھی ادھر ہاتھ مارتا ہے کبھی ادھر ہاتھ مارتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا کہ جو تمہارے سامنے حصہ ہے اس میں ہاتھ ڈالو اور دائیں ہاتھ سے کھاؤ بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ۔یہ چیز ہے جو چھٹین سے ہی بچے کے کان میں ڈالی جاسکتی ہے۔اس طرح سال ڈیڑھ سال کی عمر سے ان کو صفائی کی نصیحت کی جاسکتی ہے۔یا مثلاً لوگوں کا قاعدہ ہوتا ہے کہ وہ بچوں کو کبھی مٹھائی یا پھل وغیرہ لا کر دیتے ہیں ایسے موقع پر بچوں کو سکھانا چاہیے کہ وہ جَزَاكَ الله کہیں۔بیشک بچہ اگر جزاک اللہ نہیں کہہ سکے گا تو وہ وَدَاكَ الله کہے گا۔مگر اس کا وَدَاکَ اللہ کہنا بھی مبارک ہوگا بجائے اس کے کہ وہ کچھ نہ کہے۔جس بچے کو بچپن سے ہی ہے جَزَاكَ الله کہنے کی عادت ڈالی جائے گی اس بچے کے دل میں قومی احساس بہت ترقی کر جائے گا۔قومی احساس ہمیشہ شکر مندی کے جذبہ کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے۔آخر ایک انسان اپنی قوم کے لیے کیوں قربانی کرتا ہے؟ اسی لیے کہ وہ سمجھتا ہے کہ قوم سے مجھے بہت سے فوائد حاصل ہورہے ہیں۔اور یہ شکر گزاری کا جذبہ جتنا زیادہ ہوگا اُتنا ہی وہ قوم کے لیے قربانی کرنے کا مادہ اپنے اندر رکھے گا۔اس کے مقابلہ میں جن لوگوں کے اندر شکر گزاری کا مادہ نہیں ہوتا ان کے سامنے قربانی کا ذکر کیا جائے تو وہ کہتے ہیں مجھے کسی نے کیا دیا ہے کہ میں اس کے لیے قربانی کروں۔حالانکہ شدید سے شدید دشمن بھی قوم سے فائدہ اٹھا رہا ہوتا ہے۔ایک جنگل میں پڑے ہوئے انسان اور ایک گاؤں میں رہنے والے انسان میں کتنا بڑا فرق ہوتا ہے۔جنگل میں رہنے والے ہر روز نئے نئے حادثات کا شکار رہتے ہیں۔کہیں سانپ بچھوؤں کا خوف ہوتا ہے، کہیں شیر اور چیتے کا ڈر ہوتا ہے، کہیں ڈاکوؤں اور لٹیروں کا خوف ہوتا ہے، کہیں خیال آتا ہے کہ ہماری چیزوں کی حفاظت کی کیا صورت ہو گی۔کبھی اپنی جان جانے کا ڈر ہوتا ہے۔کبھی خیال ہوتا ہے کہ گیدڑ آجائیں گے اور چیزیں کھا جائیں گے۔غرض کئی قسم کے خطرات ہر وقت سامنے رہتے ہیں لیکن گاؤں اور شہر میں ان