خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 54

$1949 54 خطبات محمود لیے خرچ ہونا تھا۔باقی دس ہزار روپیہ جو لکڑی اور اینٹوں کی صورت میں ہمیں واپس مل سکتا تھا وہ ان کی عمارتوں کو سال بھر قائم رکھ کر ہمارے دفاتر اور کارکنوں کو اکٹھا رکھنے میں کام آسکتا ہے۔میں اندازہ لگایا ہے کہ فی بیرک چھ چھ مکان بن سکتے ہیں اور چونکہ پچاس بیر کیں ہیں اس لیے بعد میں بڑی آسانی سے تین سو مکان بن سکتا ہے۔اگر ہم ان مکانات کو سال بھر رہنے دیں تو دس ہزار روپیہ کا نقصان اٹھانے کی بجائے ہمیں کم سے کم چالیس ہزار روپیہ کی بچت ہو گی۔اگر ہم خیمے لگائیں تو ہمیں پچاس ہزار روپیہ سالانہ کرایہ ادا کرنا پڑے گا۔اور اگر ہم خیمے خرید کر سال بھر کے بعد پیچیں تو ہمیں ساٹھ ستر ہزار روپے کا گھاٹا برداشت کرنا پڑے گا۔لیکن اگر یہ شیڈ اور مکانات اسی طرح پر کھڑے رہیں اور چھ چھ مکان فی بیرک بنا دیئے جائیں تو تین سو مکان بن جائے گا۔ان پچاس شیڈوں کے علاوہ جو عارضی مکانات وہاں جلسہ سالانہ کے لیے بنائے جا رہے ہیں جن میں دفاتر بھی ہوں گے، ناظروں کے لیے مکانات بھی ہوں گے، پرائیویٹ سیکرٹری کا بھی دفتر ہو گا اور میرا مکان بھی ہوگا اس پر ہمارے اخراجات کا اندازہ چار ہزار روپیہ ہے کیونکہ بہر حال کسی چھوٹی سی جگہ میں یہ سارے دفاتر نہیں آسکتے۔دس بارہ افسروں کے لیے جگہ کی ضرورت ہوگی۔دفتر پرائیویٹ کی سیکرٹری کے لیے جگہ کی ضرورت ہوگی اور پھر میری رہائش کے لیے جگہ کی ضرورت ہوگی۔اس کے کی لیے ہم نے جو نقشہ تجویز کیا ہے اس کے مطابق چار ہزار روپے خرچ کا اندازہ ہے۔اور اگر اس خرچ کو پورے سال پر پھیلا دیا جائے تو ساڑھے تین سو روپیہ ماہوار کا خرچ ہے جو سلسلہ کو برداشت کرنا پڑے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر جلسہ سالانہ کے فوراً بعد ہم دفاتر وہاں منتقل کرنا شروع کر دیں کی اور موجودہ عارضی عمارات کو قائم رکھیں تو بجائے نقصان کے ہمیں تمھیں چالیس ہزار روپیہ کا فائدہ رہے گا۔اور پھر مزید فائدہ یہ ہو گا کہ سب کارکن اکٹھے رہیں گے اور کام میں پہلے کی نسبت زیادہ ترقی ہوگی۔میں نے یہ ساری تمہید اس لیے باندھی ہے کہ اس وقت جلسہ سالانہ کے انتظامات کے سلسلہ میں صرف رہائش پر بیس ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ ہے۔کھانے پینے کا خرچ اس سے الگ ہے۔ہماری جماعت کے نمائندگان نے مجلس شورای میں متفقہ طور پر یہ کہا تھا کہ اگر ساری جماعت اپنی ماہوار آمدن کا دس فیصدی حصہ چندہ جلسہ سالانہ کے لیے پیش کر دے تو اس کے بعد