خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 44

* 1949 44 خطبات محمود ایک نفسانی خواہش کے ماتحت کہی گئی تھی اس لیے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کو نا پسند فرماتے ہوئے قسم کھائی کہ آئندہ میں اس بھانجے کو اپنے گھر آنے کی اجازت نہیں دوں گی۔چنانچہ انہوں نے بھانجے کو روک دیا اور اسے کہ دیا کہ میں آئندہ تمہاری شکل دیکھنا نہیں چاہتی۔تم میرے گھر میں مت آیا کرو۔میرے ہاں آنے کی تمہیں اجازت نہیں ہو گی۔انگریزی میں مثل ہے کہ انگریز کا گھر قلعہ ہوتا ہے۔1 مطلب یہ کہ اُس کے گھر کے اندر کوئی دخل اندازی نہیں کر سکتا۔مگر حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑا قلعہ مسلمان کا گھر ہے۔انگریز کے گھر کو صرف رسم و رواج کی وجہ سے ایک پاکیزگی اور طہارت حاصل ہے لیکن مسلمان کے گھر کو خدائی قانون نے ایک قلعہ کی صورت دے دی ہے اور قرآن کریم نے نہایت واضح الفاظ میں یہ حکم دیا ہے کہ کسی کے گھر بغیر گھر والے کی اجازت کے کوئی شخص داخل نہیں ہو سکتا۔2 پس انگریز کے گھر کو اگر کوئی خوبی حاصل ہے تو صرف رسم و رواج کی وجہ سے۔لیکن مسلمان کے گھر کو خدائی قانون اور ایک دینی حکم کی وجہ سے پاکیزگی اور طہارت حاصل ہے۔بہر حال حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جب فرما دیا کہ وہ میرے گھر میں نہ آیا کرے تو اب اس بھانجے کی یہ طاقت نہیں تھی کہ وہ اندر آ سکے کیونکہ قرآن کریم کا حکم اُس کے سامنے تھا کہ انسان کسی کے گھر میں اُس کی اجازت کے بغیر داخل نہیں ہوسکتا۔وہ ایک ہی بات کہہ سکتا تھا کہ مجھے اندر آنے کی اجازت دی جائے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے چونکہ فرما دیا تھا کہ میں تمہیں اندر آنے کی اجازت نہیں دیتی آپ بعد میں بھی یہی فرما سکتی تھیں کہ تمہیں ہے آنے کی اجازت نہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ اس بھانجے کی آمد ورفت اپنی خالہ کے ہاں بند ہوگئی۔اگر یہ بات صرف دنیوی حد تک محدود ہوتی تب بھی بھانجے پر اپنی خالہ کی ناراضگی سخت گراں گزرتی مگر یہاں صرف دنیوی بات نہیں تھی بلکہ خالہ وہ تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چہیتی بیوی تھیں اور جن سے ملاقات کرنے اور دعائیں لینے میں سراسر برکت اور رحمت تھی۔نتیجہ یہ ہوا کہ بھانجے پر یہ بات بہت گراں گزری اور وہ دن رات بہت غمگین رہنے لگا۔صحابہ کرام نے جب دیکھا کہ اس نوجوان کی حالت خراب ہو رہی ہے تو انہوں نے کوشش کی کہ کسی طرح حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اسے معاف فرما دیں۔چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور سب سے پہلے یہ معلوم کیا کہ خالہ اور بھانجے کے ملنے میں وقت کیا ہے۔انہیں معلوم ہوا کہ حضرت عائشہ اُسے اپنے ہاں آنے کی