خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 354 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 354

$1949 354 خطبات محمود ہو جا ناممکن ہے اور اس عرصہ کے لیے عارضی مکانات پر مزید پچاس ہزار روپیہ خرچ کرنے کے معنے یہ ہیں کہ چار ماہ کے لیے بارہ ہزار روپیہ ماہوار کا خرچ برداشت کیا جائے اور ظاہر ہے کہ جماعت کی اس مالی کمزوری کے وقت جبکہ ماہوار تنخواہیں بھی قرض لے کر ادا کی جاتی ہیں چار ماہ کے عرصہ کے لیے اس کی قدر زیادہ اخراجات کا برداشت کرنا خلاف عقل ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس سے بعض لوگوں کو تکلیف ہوگی لیکن اسے دور کرنے کے لیے اس قدر خرچ بھی برداشت نہیں کر سکتے۔آئندہ وقت کے لیے انسان ہمیشہ قیاس ہی کرتا ہے۔ہم نے بھی یہ قیاس کر لیا تھا کہ عارضی مکانات تھوڑے بہنیں گے اور مستقل عمارات دیر سے بنیں گی لیکن ہمارا یہ اندازہ غلط نکلا۔پھر منظوریاں دیتے وقت ہم نے یہ نہیں سمجھا کہ یہ منظور یاں ہمیں کہاں پہنچا دیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ جن اور راج دونوں ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں۔جس طرح بقول جبال دن گھر سے نہیں نکلتا اسی طرح راج بھی گھر سے نہیں نکلتا۔پھر یہاں تو ہم نے صرف ایک گھر نہیں بنانا ایک شہر آباد کرنا ہے۔یہاں تو راج جنوں کا بھی بادشاہ بن جائے گا۔دراصل جب بھی کسی چیز کا اندازہ کیا جاتا ہے اور اس اندازہ کے بعد کام کو شروع کیا جاتا ہے تو مزید مطالبات کی ایک فہرست آجاتی ہے اور جس چیز کے متعلق ایک ہزار کا اندازہ کیا جاتا ہے مزید مطالبات کی وجہ سے جی وہ اندازہ ڈیڑھ دو ہزار تک جا پہنچتا ہے۔مثلاً ہم سمجھتے ہیں کہ فلاں کام کے لیے اتنے مکانوں کی ضرورت ہوگی اور ان پر دو ہزار خرچ آئے گا۔ہم ان کو مکان سمجھ کر منظوری دے دیتے ہیں لیکن دو ماہ کے بعد ایک اور مطالبہ آجاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ وہ تو صرف کمروں کا اندازہ تھا۔آخر رہنے والوں نے پردہ میں رہنا ہے اس لیے پردہ کی ضرورت ہے اور ان پر بھی اتنے سو روپیہ خرچ ہوگا۔ہمیں وہ مطالبہ منظور کرنا ہی پڑتا ہے۔پھر رپورٹ آ جاتی ہے کہ کمروں اور پردوں کے علاوہ باورچی خانوں اور پاخانوں کی بھی ضرورت ہوگی۔پہلے خرچ کی منظوری دینے کے بعد ہم مجبور ہوتے ہیں کہ اس مطالبہ کو بھی منظور کریں ورنہ سب خرچ ضائع ہو جاتا ہے۔انجنیئر حکومتوں سے بھی اسی طرح کیا کرتے ہیں۔جوگندرگر کی بجلی کی سکیم پانچ کروڑ کے اندازہ سے شروع ہوئی تھی اور اٹھارہ کروڑ پر جا کر ختم ہوئی۔چنانچہ جب میں پچھلی دفعہ ربوہ آیا ہوں اور اخراجات کی ساری فہرست پیش ہوئی تو معلوم ہوا کہ پچاس ہزار روپیہ خرچ ہو چکا ہے بلکہ بیت المال کا یہ دعوی ہے کہ انہوں نے ساٹھ ہزار روپیہ انجمن کی عمارتوں کے