خطبات محمود (جلد 30) — Page 353
$ 1949 353 خطبات محمود لو ہے کو بھی شامل نہیں کرتے کیونکہ اس کے متعلق بھی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ وہ دوبارہ استعمال میں آجائے گا۔غرض اخراجات کا اندازہ کرتے وقت ہم اُن چیزوں کو شمار میں لاتے ہیں جو دوبارہ کام نہیں آسکتیں اور وہ مزدوری اور کچی اینٹیں ہیں۔کچی اینٹوں سے کچھ رقم واپس آئے گی جو عمارت کے خرچ کا 1/4 حصہ کے قریب ہوگی، نکے وغیرہ جو لگے ہیں یا جو اخراجات ایسے ہوئے ہیں انہیں اگر ملا لیا جائے تو دولاکھ روپیہ لگ چکا ہے۔لیکن جیسا کہ میں نے بتایا ہے اس میں سے اکثر حصہ ضائع چلا جائے گا۔در حقیقت جس طرح یہ بات غیر معمولی ہے کہ فسادات کے بعد ایک قوم ایک جگہ پر بس گئی ہو اسی طرح یہ بھی غیر معمولی چیز ہے کہ چند ماہ کی رہائش کے لیے کسی قوم نے اس قدر روپیہ خرچ کیا ہو۔ہمارا خیال ہے تھا کہ شروع شروع میں چند مکانات عارضی طور پر بنالیں گے اور پھر پورا زور لگا کر مستقل کام کو شروع کر دیں گے لیکن یہ اندازہ غلط نکلا اور کام لمبا ہو گیا۔اب اس جگہ پر میونسپل کمیٹی بن چکی ہے اور 26 را کتوبر کو اس کے لیے قواعد بنائے جائیں گے۔قواعد مرتب ہو جانے کے بعد ہی مستقل مکانات بنائے جاسکتے ہیں۔اور اس کے لیے یہ قاعدہ ہے کہ جو قواعد پاس کیے جائیں گے اُن کے لیے ایک ماہ کا کی اعلان ضروری ہوگا تا مقامی پبلک کو اگر کوئی اعتراض ہو تو انہیں موقع مل جائے۔اس کے بعد کا غذات ہے ڈپٹی کمشنر کے پاس جائیں گے۔پھر ڈپٹی کمشنر، کمشنر کے پاس بھیجے گا۔پھر کاغذات اس محکمہ کے سیکرٹری کے پاس جائیں گے۔وہ منظوری دے کر انہیں پھر کمشنر کے پاس بھیجے گا۔وہاں سے ڈپٹی کمشنر کے پاس آئیں گے۔اسی طرح وہ گزٹ میں شائع کیے جائیں گے۔اس کے بعد میونسپل کمیٹی ان قواعد کے مطابق جو نقشے ہوں گے انہیں منظور کرے گی۔اب اگر 26 اکتوبر کو وہ قانون پاس ہو جائیں تو اعتراضات کے لیے 26 نومبر تک کا عرصہ ضروری ہوگا۔یہاں تو پبلک ساری اپنی ہے اس لیے اعتراض کرنے کی کوئی صورت ہی نہیں لیکن پھر بھی قانون کا پورا ہونا ضروری ہے اور اس کے بغیر کمیٹی کی کوئی قدم نہیں اُٹھا سکتی۔پھر کاغذات ڈپٹی کمشنر اور کمشنر کے پاس جائیں گے۔اس طرح اس پر بھی ایک لمبا وقت لگ جائے گا۔پس خدا تعالیٰ چاہے تو دسمبر یا جنوری میں مستقل عمارتوں کا کام شروع ہو سکے گا۔بہر حال جس چیز کا ہمیں پہلے کوئی علم نہیں تھا کہ کب ہوگی وہ ایک معین صورت میں آگئی ہے۔قواعد کے مرتب ہو جانے کے بعد دواڑھائی ماہ کے اندر مستقل تعمیر کے شروع ہو جانے کا امکان ہے۔اور اگر اس عرصہ میں مستقل تعمیر شروع ہو گئی تو مستقل عمارتوں میں سے ایک حصہ کا تین چار ماہ میں تیار