خطبات محمود (جلد 30) — Page 323
خطبات محمود 323 * 1949 مجھے اپنی زندگی میں ہمیشہ ہنسی آتی ہے اپنی ایک بات پر ( مگر یہ ابتدائی مقام کی بات تھی اور ی اعلیٰ مقام ہمیشہ ابتدائی منازل کو طے کرنے کے بعد ملتا ہے۔اور ابتدائی مقام یہی ہوتا ہے کہ انسان کی سمجھتا ہے میں نے خدا سے مانگنا ہے ) کہ میں نے بھی خدا سے کچھ مانگا اور اپنے خیال میں انتہائی درجہ کا مانگا مگر مجھے ہمیشہ ہنسی آتی ہے اپنی بیوقوفی پر اور ہمیشہ لطف آتا ہے خدا تعالیٰ کے انتقام پر کہ جو کچھ ساری عمر کے لیے میں نے مانگا تھا وہ بعض دفعہ اس نے مجھے ایک ایک ہفتہ میں دے دیا۔میں تو اس پر شرمندہ ہوں کہ میں نے کیا حماقت کی اور اُس سے کیا مانگا اور وہ آسمان پر ہنستا ہے کہ اس کو ہم نے کیسا بدلہ دیا اور کیسا نادم اور شرمندہ کیا۔پھر میں نے سمجھا کہ مانگنا بھی فضول ہے۔کیوں نہ ہم اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا کریں کہ وہ ہمیں بے مانگے ہی دیتا چلا جائے۔ایک شخص جو کسی بڑے آدمی کے گھر مہمان جاتا ہے وہ اگر اس سے جا کر کہے کہ صاحب ! میں آپ کے گھر سے کھانا کھاؤں گا تو اس میں میز بان اپنی کتنی ہتک محسوس کرتا ہے۔جب وہ اس کے ہاں مہمان آیا ہے تو صاف بات یہ ہے کہ وہ اس کے ہاں سے کی کھانا کھائے گا۔اُس کا یہ کہنا کہ میں آپ کے ہاں سے کھانا کھاؤں گا یہ مفہوم رکھتا ہے کہ وہ میزبان کے متعلق اپنے دل میں یہ بدظنی محسوس کرتا ہے کہ شاید وہ کھانا نہ کھلائے۔اسی طرح اللہ تعالی کا جو مہمان ہو جاتا ہے اسے اللہ تعالیٰ خود کھیلا تا اور پلاتا ہے۔اگر وہ اس سے مانگے تو اس میں اس کی اعلیٰ و ارفع شان کی ہتک ہوتی ہے۔مگر خدا کا سلوک ہر بندے سے مختلف ہوتا ہے۔وہ جو خدا کے لیے اپنی زندگی وقف نہیں کرتے اُن کو بھی وہ روزی بہم پہنچاتا ہے اور جو اُس کے لیے اپنی ساری زندگی کو وقف کیسے ہوئے ہوتے ہیں اُن کو بھی وہ روزی بہم پہنچاتا ہے۔فرماتا ہے۔كُلًا تُمِدُّ هَؤُلَاءِ وَهُوَ لَا ء 1: ہم اس کے لیے بھی روزی کا انتظام کرتے ہیں جو ایمان سے خارج اور دہر یہ ہوتا ہے اور اس کے لیے بھی روزی کا انتظام کرتے ہیں جو ہم پر کامل ایمان رکھنے والا ہوتا ہے۔یہ دو گروہ ہیں جو الگ الگ ہیں۔ایک وہ ہے جو ہمیں گالیاں دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میں خود کمائی کروں گا اور اپنی کوشش سے رزق حاصل کروں گا اور ایک گروہ وہ ہے جو کہتا ہے کہ کمائی لغو چیز ہے بلکہ میں نے تو خدا تعالیٰ سے بھی نہیں مانگنا۔اس کی مرضی ہے چاہے دے یا نہ دے۔فرماتا ہے ہم اس گروہ کو بھی دیتے ہیں اور اُس گروہ کو بھی دیتے ہیں۔ایک ھؤلاء ان لوگوں کی طرف جاتا ہے جو بدترین خلائق ہوتے ہیں اور جو مادیات کے اتنے دلدادہ اور عاشق ہوتے ہیں کہ سمجھتے ہیں سب نتائج کی بنیاد مادیات پر ہی ہے۔اور