خطبات محمود (جلد 30) — Page 23
$ 1949 23 23 خطبات محمود صحابی ہم سے جدا ہو رہے ہیں اور آہستہ آہستہ وہ دن آ جائے گا جب یہ کہا جائے گا کہ کیا تم میں سے کوئی ہے جس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا ہے۔اور ہمیں کوئی ایسا شخص نہیں ملے گا۔کیا وہ دن ہو گا جس دن تم اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو گے؟ وہ دن وہی ہوسکتا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی ہم میں موجود ہوں اور آپ کے دیکھنے والے اور آپ کی باتیں سننے والے ہم میں موجود ہوں۔میں نے دیکھا ہے کہ غیروں کے اندر بھی یہ جذبہ پایا جاتا ہے ہے۔جب میں لنڈن گیا تو کچھ انگریز مجھے ملنے کے لیے آئے۔ان میں سے ایک پرانا احمدی بھی کی تھا۔وہ میرے پہلو میں بیٹھا ہوا تھا۔ان لوگوں نے مجھ سے باتیں کرنی شروع کر دیں اور مختلف سوالات کیے جن کے میں نے جوابات بھی دیئے۔انہوں نے مجھ پر نبوت کے متعلق بھی سوالات کیے اور میں نے انہیں بتایا کہ نبوت کے کیا معنے ہیں۔نبی خدا تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتا ہے اور خدا تعالیٰ اس سے باتیں کرتا ہے۔اس احمدی کے اندر یہ باتیں سن کر ایک عجیب سا تغیر پیدا ہوا اور مجھ سے مخاطب ہوتے ہوئے اس نے کہا کہ کیا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دیکھا ہے؟ میں نے کہا: ہاں میں نے آپ کو دیکھا ہے۔میں خود آپ کا بیٹا ہوں۔اُس نے پھر پوچھا کی کیا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی باتیں سنی ہیں؟ میں نے کہا ہاں میں نے آپ کی باتیں سنی ہیں۔اس نے پھر سوال کیا کہ کیا آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے مصافحہ کیا ہے؟ میں نے جواب دیا ہاں میں نے آپ سے مصافحہ کیا ہے۔میں حیران تھا کہ یہ شخص احمدی ہے اور پھر ایسے سوالات کرتا ہے۔اس کے بعد اُس کی ایسی حالت ہو گئی جیسے غنودگی کی ہوتی ہے ہے۔وہ جھک گیا اور اٹھ کر مجھ سے مصافحہ کیا اور کہا میں اُس شخص سے مصافحہ کر رہا ہوں جس نے کی اُس شخص سے مصافحہ کیا جس سے خدا تعالیٰ باتیں کرتا تھا۔غرض دنیا کی نگاہ میں یہ ایک عجیب بات سمجھی جاتی ہے کہ انہیں کوئی ایسا شخص مل جائے جو اُس شخص سے ملا ہو جس سے خدا تعالیٰ باتیں کیا کرتا ت تھا لیکن یہ لوگ ختم ہو جاتے ہیں تو دنیا پر مُردنی چھا جاتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ کسی طرف دوڑے جار ہے ہوتے ہیں تو اگر اُن سے پوچھا جائے کہ کیا ہے؟ تو وہ کہہ دیتے ہیں بندر کا تماشہ ہے۔لوگ ایک طرف دوڑے جا رہے ہوتے ہیں اگر اُن سے پوچھا جائے کہ کیا ہے؟ تو وہ کہہ یتے ہیں مداری کا تماشہ ہے۔لوگ ایک طرف دوڑے جا رہے ہوتے ہیں اور اگر ان سے پوچھا تی