خطبات محمود (جلد 30) — Page 306
* 1949 306 خطبات محمود تھی کہ وہ ہمیشہ درخت پر بیٹھ کر گالیاں دیا کرتا تھا۔غرض لاہور میں یا تو مخالفت کی یہ حالت ہوا کرتی تھی اور یا آب اندرونی طور پر چاہے کیسی ہی مخالفت ہو ہم ان کے پاس سے گزرتے ہیں تو وہ ادب سے سلام بھی کرتے ہیں اور ہماری باتوں کی طرف متوجہ بھی ہوتے ہیں۔ایک دفعہ میں یہیں لاہور میں آیا۔یہ آج سے پندرہ سولہ سال پہلے کی بات ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے متعلق یہاں جلسہ تھا اور چونکہ میں بھی آیا ہوا تھا اس لیے جماعت نے خواہش کی کہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ایک تقریر کروں اور اس غرض کے لیے انہوں نے بریڈ لا ہال تجویز کیا۔جب میری اس تقریر کا لوگوں میں اعلان ہوا تو ”زمیندار“ نے شور مچانا شروع کر دیا کہ ان لوگوں کا حق ہی کیا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام لیں۔یہ تو آپ کو کے دشمن ہیں۔بعض نے مجھے کہا کہ ”زمیندار“ اِس اِس طرح مخالفت کر رہا ہے ایسا نہ ہو کہ لوگ اس جلسہ میں کم آئیں۔میں نے کہا لا ہور والوں پر میری تقریروں کا اتنا اثر ہو چکا ہے کہ وہ ”زمیندار“ کی مخالفت کے باوجود میری تقریر سننے کے لیے ضرور آجائیں گے۔انہیں میری تقریروں کا چسکا پڑ چکا لی ہے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔جب میں پہنچا تو ہال بالکل بھرا ہوا تھا۔اس جلسہ میں شرارت کی غرض سے کی بعض شخص ان کے بھی آگئے اور جلسہ کے باہر چودھری اسد اللہ خاں صاحب سے بعض لوگوں کی لڑائی کی بھی ہوئی لیکن بہر حال جلسہ میں جو لوگ آئے ان میں سے اکثر ایسے تھے جو صرف تقریر سننے کے لیے آئے تھے۔ایک شخص جو مولوی ٹائپ کا تھا بریڈ لا ہال میں کرسیوں کی آخری لائن میں آکر بیٹھ گیا۔جب میں نے تقریر شروع کی تو اُس نے فوراً کھڑے ہو کر ”زمیندار“ کے اثر کے ماتحت یہ الفاظ کہے کہ اپنی وڈی پگڑی بھی ہوئی ہے پر عقل ذرا بھی نہیں ( یعنی پگڑی تو اتنی بڑی باندھی ہوئی ہے مگر عقل بالکل نہیں)۔میں نے کہا صاحب بیٹھ جائیے۔جب میں بات کروں گا تب آپ کو پتا لگے گا کہ میرے اندر عقل ہے یا نہیں۔ابھی میں نے کوئی بات ہی نہیں کی تو آپ کو پتا کیسے لگ گیا کہ میں بے عقلی کی بات کروں گا۔میرے اس جواب سے وہ ایسا مرعوب ہوا کہ بیٹھ گیا۔اس کے بعد ساری تقریر میں میں انتظار کرتا رہا کہ وہ کچھ بولے مگر وہ ایسا محو ہوا ایسا محو ہوا کہ ایک احمدی دوست نے جو اس کے پاس ہی بیٹھے ہوئے تھے بتایا کہ جب تقریر ختم ہو گئی تو وہ کہنے لگا بس اتنی ہی تقریر تھی ؟ ہمیں تو امید تھی کہ یہ تقریر کچھ دیر اور بھی جاری رہے گی۔اب گجا تو مخالفت کی وہ حالت تھی اور گجا یہ حالت ہے کہ تقریر ختم ہو