خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 22 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 22

$ 1949 22 خطبات محمود وہ لوگ بڑے بڑے ملک تھے۔گورنمنٹ کی طرف سے بعض کو بارہ بارہ تیرہ تیرہ ہزار روپیہ ماہوار وظیفہ ملتا ہے اور وہ آفریدی اور شنواری قبائل سے تعلق رکھتے تھے۔مجھے جب ان کے آنے کی خبر ملی تو میں نے ان کے لیے چائے تیار کروائی۔چائے پینے کے بعد اُن ملکوں میں سے ایک نے مجھے پشتو میں یہ کہنا شروع کیا جس کا بعد میں اردو میں ترجمہ کیا گیا کہ آپ حیران ہوں گے کہ ہم آپ کی جماعت سے تعلق نہیں رکھتے۔پھر ہم آپ سے ملنے کے لیے کیوں آئے ہیں؟ ہم اپنے یہاں آنے کی کی وجہ بتاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ جب پنجاب میں فسادات ہوئے اور ہمارے پاس خبر میں آنی ہے شروع ہوئیں کہ فلاں علاقہ سے مسلمان نکل آئے ہیں، فلاں علاقہ سے مسلمان بھاگ آئے ہیں تو ی شرم کے مارے ہماری گردنیں جھک جاتی تھیں اور ہم سمجھتے تھے کہ اب ہم کسی کو اپنا منہ نہیں دکھا سکتے۔لیکن جب ہمیں خبریں آنی شروع ہوئیں کہ احمد یہ جماعت مقابلہ کر رہی ہے اور اپنے مرکز کا دفاع کر رہی ہے اور ہوتے ہوتے یہ خبریں آنی شروع ہوئیں کہ اگر چہ گورنمنٹ کا زور بڑھ گیا ہے مگر قادیان کو کلی طور پر احمدیوں نے نہیں چھوڑا اور اب بھی وہاں مسلمان موجود ہیں تو ہماری گردنیں اونچی ہو گئیں۔آپ نے ہماری ناک کٹ جانے سے ہمیں بچا لیا اس لیے ہم شکریہ ادا کرنے کے لیے یہاں آئے ہیں۔مذہبی طور پر تو ہمیں آپ سے شدید مخالفت ہے لیکن چونکہ آپ نے ہماری عزت قائم رکھی اس لیے ہم یہاں آئے ہیں تا آپ کا شکریہ ادا کریں۔اور بھی کئی واقعات ہیں مثلاً خارجی امور میں چودھری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے جو خدمات سرانجام دی ہیں۔مثلاً باؤنڈری کمیشن میں جو آپ نے حصہ لیا اگر چہ اس کا فیصلہ ہمارے خلاف ہی ہوا لیکن سب لوگ یہ تسلیم کرنے لگ گئے ہیں کہ ہر کام صحیح قربانی کے ساتھ احمدی ہی کر سکتے ہیں۔اب ہمارا غیر بھی سمجھنے لگ گیا ہے کہ ہماری جماعت کو کوئی خاص کام تفویض ہوا ہے لیکن ہماری جماعت ہی اس کام کو نہ سمجھے اور اپنے اندر صحیح تبدیلی پیدا نہ کرے تو اس سے زیادہ بد قسمتی اور کیا ہو گی۔پس میں جماعت کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کرے، اپنے اندر صحیح تبدیلی پیدا کرے اور اپنے آپ کو سچا، مخلص اور سچا مسلم ثابت کرے۔اگر آج تم اپنے اندر تبدیلی پیدا نہیں کرتے اور آج تم اپنی اصلاح نہیں کرتے تو وہ دن کو نسا آئے گا جب تم اپنی اصلاح کرو گے۔ہر دن جو آتا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ ہم میں سے بعض مرجاتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے