خطبات محمود (جلد 30) — Page 21
$ 1949 21 خطبات محمود تحریک کرتا ہوں کہ وہ لوگ جنہیں خدا تعالیٰ توفیق دے خصوصاً وہ لوگ جو گزشتہ فسادات کی زد میں نہیں آئے اور خدا تعالیٰ نے انہیں محفوظ رکھا ہے وہ چندہ دیں اور اس روپیہ سے قادیان کے ان کی غرباء کو جور بوہ میں مکان بنانے کی طاقت نہیں رکھتے مکانات بنا کر دیئے جائیں۔ہمارا اندازہ ہے کہ غریبانہ طرز کا مکان جس میں دو تین کمرے ہوں اور وہ کچا بنایا جائے تو اس پر چار سو روپیہ کے قریب خرچ آئے گا۔ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ابھی مرکزی مکانات بھی کچے بنائے جائیں۔بہر حال اگر مکانات کچے بنائے جائیں تو ہمارا اندازہ ہے کہ چار سو روپیہ میں ایک احاطہ اور دو تین کمرے بن سکیں گے اور باون ہزار روپیہ میں سوا سو آدمیوں کے لیے مکانات تعمیر کیے جاسکتے ہیں اور چونکہ یہ رویا میں نے سیالکوٹ میں دیکھی ہے ( یہ رویا میں نے کل رات دیکھی ہے ) میں نے ی سمجھا کہ یہ رویا یہاں سیالکوٹ میں ہی خطبہ میں بیان کر دوں۔در حقیقت جماعت کو یہ محسوس ہونا چاہیے کہ ہم نے ایک بہت لمبے عرصہ کے بعد ایک متحدہ جماعت بنائی ہے۔ہمیں ایک دوسرے کی تکلیفوں کا احساس ہونا چاہیے ورنہ گروہ تو پہلے بھی تھے پھر ایک جماعت بنانے کا کیا فائدہ۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ سب مومن ایک جسم کی طرح ہوتے ہیں جیسے جسم کے ایک حصہ کو تکلیف پہنچتی ہے تو تمام جسم متکلم ہوتا ہے۔2 اس طرح مومن پیار اور محبت کی وجہ سے ایک دوسرے کی تکلیف کو محسوس کرتے ہیں ، اس کے نقصان کو اپنا نقصان خیال کرتے ہیں۔اس وقت مادیت کا زور ہے اور اس کے اثر کی وجہ سے بدقسمتی سے ہم دوسرے کی تکلیف کو محسوس نہیں کرتے اور اس کے نقصان کو اپنا نقصان تصور نہیں کرتے۔تیرہ سو سال کے لمبے عرصہ کے بعد اور انتہائی مایوسیوں اور ناامیدیوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ جماعت بنائی ہے۔اگر یہ جماعت اُسی طرح کوشش کرتی جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں صحابہ نے کی تو یقیناً ہماری جماعت اپنے نیک نمونہ کی وجہ سے بہت زیادہ ترقی کر سکتی تھی۔اب تو صاف نظر آ رہا ہے کہ اگر مسلمانوں کے لیے کوئی سہارا ہے تو وہ صرف ہماری جماعت ہی ہے۔مسلمانوں پر جو متواتر مصائب آئے ہیں ان مصائب کے دوران میں اگر ان کی عزت کسی حد تک بچی ہے تو وہ ہماری جماعت کی وجہ سے ہی بچی ہے۔پچھلے سال جب میں سیالکوٹ کے بعد پشاور گیا تو وہاں مجھے تیرہ ملکوں کا ایک وفد ملا۔