خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 20

$ 1949 20 20 خطبات محمود قبول کرتے ہیں جیسے بیوی خاوند کا نطفہ قبول کر کے اسے بچہ بنا دیتی ہے۔صوفیاء کے نزدیک خدا تعالیٰ اور پیر کو خاوند کی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور بندے اور مرید کو بیوی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔پس چونکہ وہ روپے خواب میں نذیر کو نہیں دیئے گئے بلکہ اُس کی بیوی کو دیئے گئے ہیں اس لیے میں نے اس کی یہ تعبیر کی کہ اسی طرف اشارہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے بندوں پر رقم خرچ کی جائے۔اور چونکہ نذیر کا پورا نام نذیر احمد ہے اس لیے احمد سے یہ مراد لی جاسکتی ہے کہ یہ روپیہ احمدی غرباء میں تقسیم کیا جائے۔باقی جو وساوس پیدا ہوئے ہیں وہ ظاہری حالات کے ماتحت ہیں۔میں نے رویا میں وہ ساری رقم ایک ہی شخص کو دے دی۔ظاہری حالات میں یہ بات قابلِ اعتراض ہے چاہے دینے والے نے وہ روپے مجھے ہی دیئے تھے اور انہیں جیسے میں چاہوں دے سکتا ہوں۔مگر سننے والا تو یہ کہہ دے گا کہ اُس سے زیادہ ہم غریب تھے۔اور چونکہ ظاہری طور پر دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے اس لیے رویا کا یہ حصہ اصلی نہیں بلکہ یہ حصہ ظاہری حالات کے تابع ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ چیز ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور میں جماعت میں تحریک کرتا ہوں کہ وہ صدقہ دیں۔یہ صدقہ انہیں روپے کی صورت میں واپس نہیں ملے گا۔ہاں یوں دوسری شکل میں بڑھ چڑھ کر ملے گا جیسا کہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں انہیں وہ رقم بڑھا چڑھا کر واپس کی جاتی ہے۔1 میں نے جب اس خواب پر مزید غور کیا تو میرے دل میں یہ خیال آیا کہ قادیان سے بہت سے لوگ ایسے آئے ہیں جن کے وہاں اپنے مکانات تھے اور ساری عمر میں تھوڑا تھوڑا کر کے جی جو روپیہ انہوں نے جمع کیا تھا وہ انہوں نے اپنے مکانوں پر لگا دیا تھا۔انہوں نے اپنی ساری طاقت اسی بات پر صرف کر دی تھی کہ وہ قادیان میں مکان بنا ئیں اور اب ان میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ نئی بستی میں اپنے مکانات بنا سکیں۔اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ میں جماعت میں تحریک کروں کے تا کہ اتنی رقم بطور صدقہ اکٹھی کی جائے۔خواب میں میں نے تین ہزار پانچ سو پونڈ کی رقم دیکھی جس کا اندازہ میں نے باون ہزار یا اڑتالیس ہزار لگایا ہے۔اگر ایک پونڈ پندرہ روپے کا سمجھ لیا جائے تو پھر یہ رقم باون ہزار روپیہ کی ہو جاتی ہے اور یہ میرا نیم خوابی کی حالت کا اندازہ تھا۔حسابی طور پر یہ رقم اڑتالیس ہزار روپیہ کے قریب بنتی ہے۔چنانچہ اسی بناء پر ہی میں جماعت میں