خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 272 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 272

* 1949 272 خطبات محمود پارٹیشن کے بعد وقتی کوٹ مچائی گئی کہ اس کی اہمیت دلوں میں کم ہوگئی۔سیکرٹریان تعلیم و تربیت کو چاہیے کہ وہ ایک دوسرے سے مشورہ کر کے اس قسم کے تمام عیوب کو دُور کرنے کی کوشش کریں جو جماعت میں پائے جاتے ہیں۔خصوصاً نو جوانوں اور بچوں کی اصلاح کی طرف انہیں توجہ کرنی چاہیے۔اور ماں باپ کو اس بات کا ذمہ دار ٹھہرانا چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو نمازیں پڑھائیں ، چھوٹے چھوٹے مسائل سکھائیں۔مثلاً ہاتھ دھوکر کھانا کھانا چاہیے، اَلْحَمدُ لِله اور سُبْحَانَ اللہ کے فقرات کہتے رہنا چاہیے تسبیح اور استغفار کی عادت ڈالنی چاہیے۔اگر ایسا ہو جائے تو بڑی عمر میں ایمان اتنا مضبوط ہو جائے گا کہ اگر انہیں کوئی ٹھو کر بھی لگے گی تو وہ ٹھوکر ان کو بے ایمان نہیں کرے گی۔یہ چیز ایسی ہے جس کا استدراج کے ساتھ تعلق ہے انقلاب کے ساتھ نہیں۔انقلابی حالات شاذ و نادر آتے ہیں باقی اوقات میں ہمیشہ بتدریج ترقی ہوتی ہے۔انقلابی تغیر کے تو یہ معنے ہوتے ہیں کہ سب کمزوریاں یکدم دور ہو جائیں لیکن استدراج یہ ہے کہ کبھی ایک کمزوری دور ہو گئی تو کبھی دوسری اور یہ چیز جد و جہد اور محنت اور قربانی کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔پس میں جماعت کے تمام دوستوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اس طریق کو اختیار کریں اور روحانیت میں ترقی کرنے کی کوشش کریں۔جب تمہاری حالت انقلاب کے ساتھ وابستہ نہیں تو پھر انقلاب کے انتظار کے کیا معنے ؟ اگر تمہارے لیے انقلاب مقدر ہوتا تو ایمان لانے کے فوراً بعد تمہاری حالت درست ہو جاتی لیکن ہوا یہ کہ ایمان لانے کے ساتھ تم نے بعض کمزوریوں پر غلبہ حاصل کر لیا تھا اور اب دوسری کمزوریوں کو تمہیں محنت اور قربانی کے ساتھ دور کرنا پڑے گا۔ہر سیکرٹری کو چاہیے کہ وہ جماعت کو بیدار کرے اور جماعت کا فرض ہے کہ وہ سیکرٹری کو بیدار کرے۔اور ایک معین پروگرام بنایا جائے کہ فلاں فلاں کمزوریوں کی اصلاح کرنی ہے۔اور رجسٹر بنائے جائیں جن میں اس بات کا ی ریکارڈ رکھا جائے کہ فلاں فلاں کمزوریوں کی اصلاح کر لی گئی ہے اور فلاں فلاں کمزوریوں کی اصلاح باقی ہے۔اسی طرح جماعت کے افراد کو نوافل اور تہجد پڑھنے کی عادت ڈالی جائے۔جماعت کے افراد سے ہمیشہ پوچھتے رہنا چاہیے کہ کتنے افراد ہیں جو تہجد پڑھتے ہیں۔ور نہ ہو سکتا ہے کہ سستی بڑھتے بڑھتے ایک وقت ایسا آجائے کہ فرائض اور سنن بھی ترک ہو جا ئیں۔حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے کہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی کی ایک