خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 263 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 263

$1949 263 خطبات محمود نے آپ سے ایسا سلوک کیوں کیا ہے؟ آپ نے فرمایا تم تو یونس کے ملک کے ہو تم جانتے ہو کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے جو مصلح دنیا میں آتے ہیں ان کیساتھ ایسا ہی سلوک کیا جاتا ہے۔میں نے ان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑا۔اے نینوا کے رہنے والے ! میں نے انہیں اتنا ہی کہا تھا کہ تم ایک خدا کی طرف آؤ اور بچوں کی پرستش نہ کرو اور میں تمہیں بھی کہتا ہوں کہ تم خدا تعالیٰ کی باتوں پر عمل کرو۔وہ غلام عیسائی لی تھا، دین اُس کے پاس تھا ہی۔اُسے یقین ہو گیا کہ یہ شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔اور جیسے انجیل میں حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ بعض عورتیں آپ کے پاس آئیں اور انہوں۔آنسوؤں کے ساتھ آپ کے پاؤں دھونے شروع کر دیئے اور بالوں سے ، پاؤں پر سے مٹی صاف کی اسی طرح وہ غلام بھی آپ کے پاؤں پر گر گیا اور اس نے آپ کے پاؤں سے مٹی اور خون صاف کرنا شروع کر دیا۔جب واپس گیا تو باغ والے نے پوچھا تم نے یہ کیا حرکتیں کی ہیں ؟ اس شخص سے میرے خاندانی تعلقات ہیں اور میں جانتا ہوں کہ یہ پاگل ہے۔اُس غلام نے کہا نہیں یہ تو اُس برادری میں سے ہے جس میں سے ہمارے نبی یونس علیہ السلام تھے۔باغ کے مالک نے اُسے ڈانٹا ڈ پٹا مگر اُس کا ول کھل چکا تھا اور وہ ایمان لا چکا تھا۔6 اب دیکھو! حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس ایک عورت آتی ہے اور کہتی ہے اے استاد! مجھے بھی وہ تعلیم سن جو تو اپنی قوم کو دیتا ہے مگر وہ جواب دیتے ہیں میرے پاس تیرے لیے کچھ نہیں۔یہ تعلیم صرف بنی اسرائیل کے لیے ہے اور بیٹوں کی روٹی گتوں کے آگے میں کیسے پھینک سکتا ہوں۔مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا جو آپ کی قوم کا نہ تھا۔ایسے وقت میں آیا جب آپ زخموں سے چور تھے اور خون سے لت پت۔بہت حد تک دشمن کے آگے آگے بھاگے چلے آئے تھے اور ایک ایسی جگہ پر آیا جو آپ کے دشمن کی تھی اور ذراسی تبلیغ کرنے سے بھی ایک بڑی آفت آسکتی تھی وہ آتا ہے اور خود بھی نہیں کہتا کہ تم مجھے تبلیغ کرومگر آپ خود سے تبلیغ کرتے ہیں۔غرض قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ميں : دیا گیا ہے کہ آپ کے لیے عرب اور غیر عرب دونوں برابر تھے۔آپ کے دکھ اور تکالیف صرف عرب قوم کے لیے ہی نہیں تھیں بلکہ کالے گورے، عربی ، مصری، ہندوستانی سب کے لیے تھیں۔آپ اپنی ایک ایک حرکت میں اس بات کا احساس رکھتے تھے کہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔حضرت بلال حبشی تھے ، عربی