خطبات محمود (جلد 30) — Page 261
$ 1949 261 خطبات محمود سے یہ چیز پائی جاتی ہے کہ عربی کو جمی پر کوئی فضیلت نہیںاور نہ مجھی کوعربی پر کوئی فضیلت ہے، مگر حضرت موسی علیہ السلام کہتے ہیں فضیلت ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں فضیلت ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس کسی غیر قوم کی ایک عورت آکر کہتی ہے اے استاد! تو مجھے بھی اس سچائی سے حصہ دے جو تُو بنی اسرائیل کے سامنے پیش کرتا ہے۔وہ یہ نہیں کہتی کہ تو میرے لیے بھی تکلیف اُٹھا، میری بہتری کے لیے بھی قربانی کر بلکہ وہ صرف اتنا کہتی ہے کہ مجھے بھی وہ باتیں سنا جو تو بنی اسرائیل کو سناتا ہے لیکن اس کی عورت کی خاطر دکھ اور تکالیف اٹھانا تو الگ رہا حضرت مسیح علیہ السلام کہتے ہیں ”بیٹوں کی روٹی میں کتوں کے آگے کیسے پھینک سکتا ہوں۔4 گویا بنی اسرائیل خدا تعالی کے بیٹے ہیں اور یہ ان کی روٹی ہے ہے۔دوسری قو میں جو بمنزلہ کتوں کے ہیں یہ روٹی ان کے آگے کیسے پھینک سکتا ہوں۔اس کے مقابلہ میں اسلام کے ابتدائی زمانہ میں ایسے ابتدائی زمانہ میں جبکہ ابھی تعلیم بھی مکمل نہیں ہوئی تھی قرآن کریم کا کی ایک پارہ بھی پورا نازل نہیں ہوا تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غلام آتے ہیں۔ان میں سے کوئی یونانی ہوتا ہے جیسے سہیل ، کوئی حبشہ کا ہوتا ہے جیسے بلال کوئی آرمینیا کا ہوتا ہے اور کوئی ایران کا۔یہ لوگ آتے ہیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اپنی یہ خواہش پیش کرتے ہیں کہ ہمیں بھی ہے اپنی تعلیم سنائیے۔اُن کے جواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہیں فرماتے کہ کیا کوئی شخص اپنے بیٹوں کی روٹی گتوں کے آگے بھی پھینک سکتا ہے۔بلکہ آپ سمجھتے ہیں کہ جس طرح عرب قوم ہے ویسے ہی یہ لوگ بھی ہیں۔آپ فوراً انہیں دینی تعلیم دینا شروع کر دیتے ہیں۔بلکہ دینی تعلیم دینا تو الگ رہا یہاں تک ثابت ہے کہ دو بھائی تھے ، وہ عربی زبان کا ایک لفظ بھی نہیں جانتے تھے یا بہت کم علم رکھتے تھے تھے وہ صرف بائبل جانتے تھے۔وہ کسی شخص کے غلام تھے اور لوہا گوٹا کرتے تھے۔آپ اُن دونوں بھائیوں کو اشاروں کے ساتھ تبلیغ کیا کرتے تھے۔جب آپ وہاں سے گزرتے تو اُن کے پاس کھڑے ہو جاتے۔وہ دونوں یونانی تھے اور آپ کی باتیں نہیں سمجھ سکتے تھے۔آپ محبت کی وجہ سے ہے وہاں کھڑے ہو جاتے اور ان کی باتیں سنتے۔پھر آپ انہیں تبلیغ کرنے لگ جاتے۔زبان تو وہ سمجھ نہیں ہے سکتے تھے اشاروں سے انہیں تبلیغ کرتے۔مثلاً اللہ کا لفظ کہہ کے آسمان کی طرف اشارہ کر دیا۔آہستہ آہستہ اُن دونوں کو آپ سے اُنس ہوتا گیا اور بالآخر وہ دونوں ایمان لے آئے۔ایسے لوگ دس گیارہ کی تعداد میں تھے جو غیر قوموں کے تھے اور آپ پر ایمان لائے۔