خطبات محمود (جلد 30) — Page 260
$ 1949 260 خطبات محمود حضرت عیسی علیہ السلام زندہ رہے مگر اپنی قوم کے لیے ، حضرت ابراہیم علیہ السلام زندہ رہے مگر فلسطینیوں کے لیے، حضرت نوح علیہ السلام زندہ رہے مگر عراقیوں کے لیے، حضرت کرشن اور حضرت رامچند رعلیهما السلام زندہ رہے مگر ہندوستانیوں کے لیے۔انہوں نے تکالیف اٹھائیں، مصائب برداشت کیں مگر صرف بنی اسرائیل کے لیے یا صرف فلسطینیوں کے لیے یا صرف عراقیوں کے لیے یا صرف ہندوستانیوں کے لیے۔لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے حکم سے فرماتے ہیں قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِینَ میں اگر تکالیف اور دکھ اُٹھاتا ہوں تو صرف ایک قوم کے لیے نہیں۔بیشک میں عرب قوم میں پیدا ہوا ہوں اور وہ میری پہلی مخاطب ہے لیکن میرے دُکھ اور مصائب ساری دنیا کے لیے ہیں۔اور یہ ایک قوم کے لیے ہو بھی کس طرح سکتے ہیں میں نے تو اپنی زندگی خدا تعالیٰ کے لیے وقف کی ہوئی ہے اور ایسے خدا کے لیے وقف کی ہوئی ہے جو رب العلمین یعنی سب جہانوں کی ربوبیت کرنے والا ہے۔میں صرف عرب قوم کا لیڈر نہیں ہوں۔میں تو خدا تعالیٰ کا جو رب العالمین ہے بندہ ہوں۔اُس کی خاطر میں نے اپنی زندگی وقف کی ہوئی ہے ہے۔وہ اگر رب العلمین ہے، وہ اگر سب جہانوں کی ربوبیت کرتا ہے تو اُس کا خادم ہونے کی حیثیت کی سے میری تکالیف اور دکھ کسی خاص قوم کے ساتھ کیوں مختص ہوں۔جس شخص کے دو بیٹے ہوں اُس کا خادم دونوں بیٹوں کی خدمت کرے گا لیکن اگر تم نوکر نہیں ہو تو تمہیں اختیار ہے کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کے دوست بن جاؤ۔دوسرے سے کسی قسم کے تعلقات نہ رکھو۔بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص کے دو بیٹے ہوتے ہیں۔ایک شخص کے ان میں سے ایک کے ساتھ گہرے تعلقات ہو جاتے ہیں حالانکہ اس کے دوسرے بھائی کے ساتھ اس کے عام رواداری اور ہمدردی کے بھی تعلقات نہیں ہوتے۔لیکن نوکر ایسا نہیں کر سکتا۔اسے دونوں کی خدمت کرنی ہوگی ، دونوں سے وفاداری کا سلوک کرنا ہے پڑے گا۔ہمسایہ ایسا کر سکتا ہے، غیر نوکر ایسا کر سکتا ہے لیکن نوکر ایسا نہیں کر سکتا۔پس قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ کہہ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔میں نے خدا تعالیٰ کو رب العلمین سمجھ کر مانا ہے۔ربّ عرب یا رب بنی اسرائیل سمجھ کر نہیں مانا۔اور جب میں نے اسے رب العلمین سمجھ کر مانا ہے تو اس کی جتنی بھی مخلوق ہے ساری کی خاطر مجھے اپنے اوپر تکالیف وارد کرنی پڑیں گی۔اسی وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم میں کثرت