خطبات محمود (جلد 30) — Page 243
* 1949 243 خطبات محمود حیرت آتی ہے۔لیکن وہ قوم کی خاطر تھی ، ملک کی خاطر تھی خالصہ اللہ نہیں تھی۔وہ قربانی جو خالصہ لِلہ نہ ہو وہ بھی آگے کئی قسم کی ہوتی ہے۔لوگ قوم کے لیے بھی قربانیاں کرتے ہیں، ملک کے لیے بھی قربانیاں کرتے ہیں، ماں باپ اور اولاد کے لیے بھی قربانیاں کرتے ہی ہیں، مائیں اولاد کے لیے جو قربانی کرتی ہیں اُس کی مثال بہت کم ملتی ہے۔دوسری قربانیاں خواہ کتنی شاندار ہوں ماؤں کی قربانیوں کی طرح عام نہیں پائی جاتیں مگر ان قربانیوں سے تو کوئی بستی بھی خالی نہیں۔بچہ بیمار ہو جاتا ہے تو ماں ساری ساری رات جاگتی رہتی ہے باپ اس کی برداشت نہیں کر سکتا۔وہ بسا اوقات تنگ آکر دوسرے کمرے میں چلا جاتا ہے۔اس کے سامنے صرف سونے کا سوال ہوتا ہے اور بیوی کے سامنے ساری رات پھرنے کا لیکن وہ ساری ساری رات جاگتی ہے اور بچے کو گود میں لے کر ادھر اُدھر پھرتی ہے۔اب یہ بھی قربانی تو ہے لیکن اللہ کے لیے نہیں کہلا سکتی۔ماں اپنی مامتا کی ماری یہ قربانی کرتی ہے، ہم اس کی قدر کرتے ہیں اور اس کا ذکر سن کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے بعض دفعہ ہماری آواز میں ارتعاش پیدا ہو جاتا ہے۔ہماری آنکھوں میں نمی آ جاتی ہے ہے۔لیکن وہ قربانی خالصۂ لِلہ نہیں کہلا سکتی۔قوم ، ملک ، والدین یا بیوی بچوں کے لیے جو قربانی کی جاتی ہے اور وہ قربانی جو خدا تعالیٰ کے لیے کی جاتی ہے دونوں میں ایک فرق ہے اور وہ فرق عقل کا ہے۔قوم، ملک، والدین یا بیوی بچوں کے لیے جو قربانی کی جاتی ہے اس کے ساتھ ایک جنون سا پایا جاتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی خاطر کی ہوئی قربانی کے ساتھ جنون نہیں پایا جاتا۔اول الذکر قسم کی قربانی کرنے والے کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ کسی طرح احسان کا بدلہ اتارے۔ماں اپنے بچے کی خاطر اس لیے چی قربانی کرتی ہے کہ وہ آئندہ قوم کا سپوت ثابت ہو اور بڑے ہو کر وہ اس کی خدمت کرے۔حالانکہ خدا تعالیٰ اس سے بھی زیادہ احسان کرنے والا ہے۔اگر اس کے اندر قربانی کا حقیقی جذ بہ ہوتا تو وہ دونوں کے درمیان موازنہ کرتی کہ کس کا احسان زیادہ ہے۔وہ ماں جو ساری ساری رات اپنے بچے کی خاطر جاگتی ہے اور اسے گود میں لیے پھرتی ہے بسا اوقات وہ تہجد کے لیے نہیں اٹھتی حالانکہ خدا تعالیٰ کا احسان اس پر زیادہ ہوتا ہے۔وہ قوم کے لیے قربانی کرتی ہے تو اس لیے کرتی ہے کہ آئندہ نسلوں کو فائدہ پہنچے لیکن اللہ تعالیٰ کا گزشتہ نسلوں پر بھی فضل ہوتا ہے اور آئندہ نسلوں کے لیے بھی وہ رحمت کا موجب ہوتا ہے۔پس قوم، ملک یا بیوی بچوں کی خاطر کی گئی قربانی کی خالصہ لِلہ قربانی کے ساتھ کوئی