خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 13 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 13

* 1949 13 خطبات محمود اس لیے کہ وہ جانور اُس کے شکار تھے ہم اُس کا شکار نہیں تھے۔ہم نے اس حملہ کرنے والے جانور کی آمد کو محسوس نہیں کیا مگر ان جانوروں نے اس کی آمد کو محسوس کر لیا کیونکہ وہ اُس کا شکار تھے اور شکار ہمیشہ اپنے شکاری کو بھانپ جایا کرتا ہے۔اسی طرح یہ لوگ چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شکار ہیں اس لیے وہ آپ کے مخالف ہو گئے ہیں اور یہی ایک وجہ ہے جس کی وجہ سے لوگ ہے آپ کے دشمن ہیں۔اور اگر یہی ایک وجہ ہے تو یہ بات ہمارے لیے غم کا موجب نہیں ہونی چاہیے بلکہ خوشی کا موجب ہونی چاہیے۔لوگ گھبراتے ہیں کہ اُن کی مخالفت کیوں کی جاتی ہے۔لوگ جھنجھلا اٹھتے ہیں کہ اُن سے عداوت کیوں کی جاتی ہے۔لوگ چڑتے ہیں کہ انہیں دکھ کیوں دیا جاتا ہے۔لیکن اگر گالیاں دینے ل اور دکھ دینے کی وجہ یہی ہے کہ وہ ہمارا شکار ہیں تو پھر ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے اور نہ کسی قسم کا فکر کرنا ہے چاہیے۔بلکہ ہمیں خوش ہونا چاہیے کہ دشمن یہ محسوس کرتا ہے کہ اگر ہم میں کوئی نئی حرکت پیدا ہوئی تو ہم اُس کے مذہب کو کھا جائیں گے۔اگر ہم نے اپنے اندر کوئی نئی تبدیلی پیدا کی تو ہم اُن کے عقائد کو باطل کر دیں گے۔اگر ہمارے دشمن کے اندر یہ احساس پایا جاتا ہے تو پھر اُس کا لڑنا جھگڑنا اور ہمیں گالیاں دینا ہمارے حوصلوں کو بڑھانے والا ہے کیونکہ وہ محسوس کر رہا ہے کہ ہم میں ایسی طاقت ہے جس کی وجہ سے ہم اُس کو اپنے اندر شامل کر لیں گے۔ہم میں اتنی طاقت ہے کہ ہم اُسے دینی طور پر مغلوب کر لیں گے۔پس اس مخالفت سے گھبرانا نہیں چاہیے کیونکہ یہ دشمن کی شہادت اور اقرار ہے کہ تم غالب آجاؤ گے اور پیشتر اس کے کہ تم اس پر غالب آؤ وہ تمہارے غلبہ کو توڑنا چاہتا ہے۔پس دشمن کا یہ سلوک ہمارے لیے خوشی کی خبر لاتا ہے اور ہمیں خوش ہو کر اس طاقت کو استعمال کرنا چاہیے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے اندر ودیعت کی ہے جس کو سونگھ کر دشمن صرف یہ پتا ہی نہیں لگا لیتا کہ یہ خطر ناک ہے بلکہ وہ اُس زنجیر کو پالیتا ہے جو آج سے تیرہ سو سال قبل چلی جاتی ہے ہے۔وہ سمجھتا ہے کہ یہ بیسویں صدی کا آدمی ہے مگر اُس کے اندر یہ طاقت اور قوت آج ہی پیدا نہیں ہے ہوئی بلکہ یہ چیز تیرہ سو سال قبل کے زمانہ سے تعلق رکھتی ہے۔کیا کبھی آپ لوگوں نے گتوں کو نہیں دیکھا؟ وہ انسان کی بُو سونگھ لیتے ہیں۔چوری کرتا ہے اور اس کا ہاتھ کسی جگہ لگتا ہے یا اُس کا کپڑا کسی چیز سے چُھو جاتا ہے تو وہ مقام یا