خطبات محمود (جلد 30) — Page 12
$1949 12 خطبات محمود ہیں۔مثلاً حضرت داؤد علیہ السلام نے لڑائیاں کی ہیں۔حضرت کرشن علیہ السلام نے لڑائیاں کی ہیں۔حضرت موسی علیہ السلام نے لڑائیاں کی ہیں مگر باوجود اس کے کہ انہوں نے لڑائیاں کیں اُن کے متعلق مخالفین میں اتنا بغض اور کینہ پیدا نہیں ہوا جتنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق ہوا ہے۔پس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مخالفت کی جو مادی وجہ بیان کی جاتی ہے وہ باطل ہوگئی اور یہی ایک مادی وجہ ہے جو بیان کی جاتی ہے۔پس جب مخالفت کی کوئی مادی وجہ موجود نہیں تو صاف ظاہر ہے کہ اس کی کوئی روحانی وجہ ہے اور وہ صرف یہی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخالفین کے دل محسوس کرتے ہیں کہ اسلام ایک صداقت ہے۔اگر اسے روکا نہ گیا تو یہ صداقت پھیل جائے گی اور انہیں مغلوب کر لے گی۔یہی ایک چیز ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات سے سخت دشمنی ہے۔اس مخالفت کے باقی جتنے بھی وجوہ بیان کیے جاتے ہیں وہ آپ سے زیادہ شان کے ساتھ دوسرے نبیوں میں موجود ہیں۔اس لیے یہ بات یقینی ہے کہ اس دشمنی کی وجہ لڑائی اور جھگڑا نہیں بلکہ ایک روحانی چیز ہے جس کی وجہ سے یہ دشمنی پیدا ہوگئی ہے اور وہ یہی ہے کہ اسلام ایک حقیقت رکھنے والا مذہب ہے۔اسلام غالب آ جانے والا مذہب ہے، اسلام دوسرے مذاہب کو کھا جانے والا مذہب ہے۔اسے دیکھ کر مخالفین کے کان فوراً کھڑے ہو جاتے ہیں اور وہ مقابلہ کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔جیسے ہم باغ میں چل رہے ہوتے ہیں یا کہیں سیر کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کوئی شکر ا یا باز آ رہا ہے مگر چڑیاں تو چوں چوں کر کے اُڑنے لگ جاتی ہیں۔ہم حیران ہوتے ہیں کہ آخر ہوا کیا؟ ہم اِدھر اُدھر بڑے غور سے دیکھتے ہیں تو اُفق پر بہت دور ایک شکرا اُڑتا ہوا نظر آتا ہے۔یا ہم دریا کی سیر کر رہے ہوتے ہیں مرغابیاں بیچ بیچ کر کے گھاس اور کیچڑ چاٹ رہی ہوتی ہیں اور اپنے پر پھیلا پھیلا کر اپنے جسم سے رطوبت اور پانی کے قطرے گرا رہی ہوتی ہیں۔دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ آرام طلبی اور عیاشی کی صرف انسان کے لیے ہی مخصوص نہیں بلکہ جانور بھی اس کے مزے اُڑا رہے ہیں۔یکدم وہ مرغابیاں اُڑ جاتی ہیں اور ہمیں اُس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی۔بڑی تلاش کرنے کے بعد دور افق پر ایک شکار کرنے والا جانور مثلاً باز نظر آتا ہے تب معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرغابیاں کیوں اُڑیں؟ دیکھو ان جانوروں نے کہاں سے اُس شکار کرنے والے جانور کی بُو سونگھ لی؟ ہم نے وہ یو نہیں سونگھی۔