خطبات محمود (جلد 30) — Page 127
$ 1949 127 خطبات محمود۔کھڑے ہو گئے۔ہیڈ ماسٹر نے انچارج سے دریافت کیا تم کس طرح خیال کرتے ہو کہ یہ لڑ کے سو ہے ہیں؟ اس نے کہا میں انہیں جگاتا ہوں اور یہ نہیں پلتے۔ہیڈ ماسٹر نے کہا واہ! یہ بھی کوئی پہچان ہے۔سچ سچ سونے والوں اور بناوٹی سونے والوں میں یہ فرق ہوتا ہے کہ بناوٹی سونے والوں کے بدن میں کوئی حرکت نہیں ہوتی لیکن جو سچ سچ سو جاتے ہیں ان کے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلتا رہتا ہے ہے۔سترہ لڑ کے جاگ رہے تھے اور بناوٹ کر رہے تھے۔انہوں نے یہ سنتے ہی اپنا دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلا نا شروع کر دیا تا وہ یہ ثابت کریں کہ وہ سچ سچ سوئے ہوئے ہیں۔جس طرح اُن لڑکوں نے اپنے سونے کی علامت پاؤں کا انگوٹھا ہلنا سمجھا حالانکہ سونے والا حرکت نہیں کرتا۔اسی طرح تم بھی یہ خیال کرتے ہو کہ روحانیت تم میں نہ پائی جائے۔اخلاق فاضلہ تم میں نہ پائے جائیں، انصاف تم میں کم ہو، عدل تم میں کم ہو، پاکیزگی تم میں کم ہو، دیانت اور امانت تم میں کم ہو اور پھر روحانی طور پر تم زندہ بھی ہو۔لیکن جس میں یہ سب چیزیں پائی جاتی ہوں وہ مُردہ ہو۔یہ تعریف ایسی ہی ہے جیسی اُس ہیڈ ماسٹر نے کی کہ جو سچ سچ سو جاتے ہیں اُن کے دائیں پاؤں کا انگوٹھا ہلالی رہتا ہے اور جو بناوٹی طور پر سور ہے ہوتے ہیں، اُن کا سارا جسم ساکت ہوتا ہے۔یہ کیسی ہنسی والی بات ی ہے۔لیکن کیا تم نے کبھی اپنے نفس پر بھی غور کیا ہے؟ ہم کہتے تو یہ ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لا کر ہم زندہ ہو گئے اور ایک غیر مسلم ہمارے برابر نہیں ہوسکتا لیکن کیا ہم اخلاق میں بھی اس مالی سے بڑھ کر ہیں؟ اگر ہم اخلاق میں اس سے بڑھ کر نہیں تو پھر ہم بھی مُردہ ہیں۔آخر کیا وجہ ہے کی ہمارے دشمن میں قربانی کا احساس زیادہ پایا جاتا ہو۔اُسے وقت کو صحیح طور پر استعمال کرنے کی عادت ہو، وہ آپس کے معاملات کو ہم سے زیادہ اچھی طرح طے کر سکتا ہو، اُس میں دیانت وامانت ہم سے زیادہ پائی جاتی ہولیکن زندہ ہم ہوں اور وہ مُردہ۔اگر تمہاری صحبت دنیا تلاش نہیں کرتی ، اگر تمہارے پاس بیٹھنے کو وہ نعمت قرار نہیں دیتی اور تمہاری دوستی کو وہ خدا تعالیٰ کا ایک فضل قرار نہیں دیتی تو تم زندہ کیونکر ہو اور تمہارا دشمن مُردہ کیونکر ہے؟ ہاں! اگر تمہارے اخلاق فاضلہ تمہیں ایک نمایاں حیثیت دے دیتے ہیں، اگر تم کو دیکھنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ تم میں اور تمہارے غیر میں بڑا بھاری فرق ہے، اگر تمہیں اس کے ہمسائے کے پاس کھڑا کر دیا جائے اور پھر اس سے پوچھا جائے کہ کیا تم ان دونوں کو برابر سمجھتے ہو؟ تو وہ بے ساختہ کہہ دے کہ یہ ہو کیسے ہوسکتا ہے۔