خطبات محمود (جلد 30) — Page 4
خطبات محمود دیکھی ہو۔4 * 1949 محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی کامیابی اور غم کے دور آئے۔جنگ بدر میں آر با وجود تعداد میں کم ہونے کے اور جنگی سامان مہیا نہ ہونے کے کفار کے مقابلہ میں کامیاب رہے۔لیکن جنگ اُحد میں آپ کے لیے اور آپ کے ساتھیوں کے لیے رنج اور مصیبت کا دور آیا۔اسی طرح کفار کے لیے تباہی مقدر تھی۔جنگِ بدر میں مسلمانوں کے مقابلہ میں انہیں ایسی شکست ہوئی ہے کہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہے۔لیکن جنگِ اُحد میں اُن پر خوشی اور راحت کا دور آیا اور ی اُنہوں نے یہ اعلان کیا کہ ہمارے درمیان اور مسلمانوں کے درمیان لڑائی ڈولوں کی طرح ہے۔کبھی ڈول مسلمانوں کے ہاتھ میں آجاتا ہے اور کبھی ہمارے ہاتھ میں آجاتا ہے۔1 یعنی اگر کل مسلمان کامیاب ہوئے تھے اور ہم نے شکست کھائی تھی تو آج ہم کامیاب ہوئے ہیں اور مسلمانوں نے شکست کھائی ہے۔گویا ایک موقع پر اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر راحت اور خوشی کا دور آیا تو دوسرے موقع پر آپ پر رنج اور غم کا دور بھی آیا۔اسی طرح ایک موقع پر اگر کفار پر رنج اور غم کا ای دور آیا تو دوسری جگہ پر اُن پر خوشی اور راحت کا دور بھی آیا۔دونوں پر دونوں دور ہی آئے لیکن فرق اتنا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جو رنج اور غم کا دور آیا اُس کے بعد راحت اور خوشی کا آنے کی والا دور آپ کو پہلے دور سے بہت زیادہ اونچا لے گیا لیکن کفار پر اُن کے رنج اور غم کے دور کے بعد جو خوشی اور راحت کا دور آیا وہ خوشی اور راحت اتنی نہیں تھی جتنا کہ اُن کا رنج اور غم تھا۔اور اس کے بعد رنج اور غم کا دوسرا دور انہیں اُس سے بھی نیچے لے گیا۔کفار کے لیے جنگِ اُحد، صلح حدیبیہ اور جنگ احزاب کے شروع میں خوشی کا دور آیا اور ان کے درمیان اور بھی کئی خوشی کے مواقع آئے مگر اُس کے بعد اُن پر جو مصیبت کے دور آئے وہ اُن خوشیوں کے دوروں سے بہت زیادہ تھے اور اُنہوں نے کفار کو پہلے سے بھی زیادہ تباہی کے گڑھے میں گرا دیا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جنگِ اُحد، جنگِ احزاب کے شروع میں اور صلح حدیبیہ کے موقع پر رنج اور غم کے دور آئے مگر اُن کی کے بعد جو راحت اور خوشی کے دور آئے وہ آپ کو بہت زیادہ آگے لے جانے والے ثابت ہوئے۔پس اگر ہمارے لیے خدا تعالیٰ نے کامیابی مقدر کی ہوئی ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ہمارے