خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 107 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 107

$ 1949 107 خطبات محمود صورت پیدا کر دے گا کہ جس سے ہمیں پانی بہ افراط میسر آنے لگے گا۔اگر پانی پہلے ہی مل جاتا تو لوگ کہہ دیتے کہ یہ وادی بے آب و گیاہ نہیں یہاں تو پانی موجود ہے۔پھر اس وادی کو بے آب و گیاہ کہنے کے کیا معنے ؟ اب ایک وقت تو پانی کے بغیر گزر گیا اور باوجود کوشش کے ہمیں پانی نہ مل سکا۔آئندہ خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی صورت ایسی ضرور پیدا کر دے گا کہ جس سے ہمیں پانی مل جائے گا۔اس لیے فرمایا کہ جاتے ہوئے حضور کی تقدیر نے جناب پاؤں کے نیچے سے میرے پانی بہا دیا پاؤں کے نیچے سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اسماعیل قرار دیا ہے۔جس طرح وہاں اسماعیل علیہ السلام کے پاؤں رگڑنے سے پانی بہہ نکلا تھا اسی طرح یہاں خدا تعالیٰ میری دعاؤں کی وجہ سے پانی بہا دے گا۔یہ ایک محاورہ ہے جو محنت کرنے اور دعا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ہم نے اپنا پورا زور لگا دیا تا ہمیں پانی مل سکے لیکن ہم اپنی کوششوں میں کامیاب نہ ہوئے۔اب خدا تعالیٰ نے میرے منہ سے یہ کہلوا دیا کہ پانی صرف تیری دعاؤں کی وجہ سے نکلے گا۔ہم نہیں جانتے کہ یہ پانی کب نکلے گا اور کس طرح نکلے گا لیکن بہر حال یہ الہامی شعر تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی صورت ایسی ضرور پیدا کر دے گا جس کی وجہ سے وہاں پانی کی کثرت ہو جائے گی انشاء اللهُ تَعَالٰی۔وو اس شعر میں حضور اور جناب دو لفظ اکٹھے کہے گئے ہیں جو عام طور پر اکٹھے استعمال نہیں ہوتے لیکن چونکہ یہاں ادب کا پہلو مراد ہے اس لیے آپ کے لفظ کی بجائے یہاں حضور اور جناب کے لفظ استعمال ہوئے ہیں۔بہانے سے مطلب یہ ہے کہ پانی وافر ہو جائے گا۔اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ یہ الہام کس رنگ میں پورا ہو گا۔ممکن ہے ہمیں نہر سے پانی مل جائے یا دریا سے پانی لے لیا جائے یا ہمیں کوئی اور جگہ مل جائے جہاں پانی ہو اور اس وقت تک ہمیں اُس کا علم نہ ہو۔بہر حال یہ نہایت ہی خوش کن الہام ہے اور یہ الہام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک الہام کی تائید کرتا ہے جو یہ ہے يُخْرِجُ هَمُّهُ وَغَمُّهُ دَوْحَةَ إِسْمَاعِيلَ 2 یعنی خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے غم اور فکر اور دعاؤں کی وجہ سے ایک سماعیلی درخت پیدا کرے گا۔وہ دَوحَةَ إِسْمَاعِیلَ میں ہی ہوں اور اس سے بھی ہجرت کی خبر نکلتی۔