خطبات محمود (جلد 30)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 105 of 459

خطبات محمود (جلد 30) — Page 105

* 1949 105 خطبات محمود جماعت کو تیار رہنا چاہیے۔میں نے جلسہ پر جماعت کو توجہ دلائی تھی کہ دوستوں کو چاہیے جس طرح وہ قادیان بار بار آیا جایا کرتے تھے وہ ربوہ میں بھی بار بار آیا جایا کریں۔اس کے کئی فائدے ہوں گے۔ایک تو اجتماعی طور پر مل جانے سے روحانیت میں چلا پیدا ہوتا ہے۔صحابہ کرام جب مل کر بیٹھتے تھے تو ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ آؤ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں کریں تا جلا پیدا ہو۔دوسرے کام کرنے والوں کے اندر بیداری پیدا ہوگی۔یہاں ہماری یہ ضرورت تھی کہ ہمارے پاس دفاتر کے لیے کافی جگہ نہیں تھی اس لیے ایسی کوئی صورت نہیں تھی کہ یہاں آنے والے لوگ بیٹھ سکیں۔اب وہاں ناظروں کے الگ الگ کمرے ہوں گے اور آنے جانے والوں کے لیے سہولت پیدا کر دیا جائے گی۔پھر جب لوگ وہاں جائیں گے تو کارکنوں کے اندر احساس پیدا ہو گا کہ جماعت ہمارے کاموں کو دیکھ رہی ہے، ہمیں اچھی طرح سے کام کرنا چاہیے۔تیسرے اردگرد کے لوگوں پر بھی اس کا اثر ہوگا۔جیسے میں نے اس پٹھان کی بات سنائی ہے۔لوگوں کے اندر یہ احساس پیدا ہو گا کہ ان لوگوں کو اپنے مرکز کی طرف میلان اور توجہ ہے اور یہ لوگ عموماً یہاں آتے جاتے رہتے ہی ہیں۔ایک دوسرے کی مدد کرنے اور آپس میں تعاون کرنے سے ان کے اندر یہ احساس پیدا ہو جائے گا کہ یہ کام کرنے والی جماعت ہے اور ان سے ملنا اور ان سے تعلق رکھنا دنیوی اور دینی دونوں رنگ میں بہتر ہے۔اس دفعہ جلسہ کے لیے سب سے بڑی دقت پانی کی تھی۔جب یہ فیصلہ ہوا کہ جلسہ اپریل میں ہوگا اور ر بوہ میں ہوگا تو ہم نے اُس وقت اس کام پر دس ہزار روپیہ لگایا جس میں سے چار ہزار روپیہ کی رقم ایسی ہے جو ہمارے پھر بھی کام آسکتی ہے۔باقی چھ ہزار رو پیدا ایسا ہے جو ہم نے پانی مہیا تی کرنے پر خرچ کیا۔ایک ہزار روپیہ تو بورنگ کے لیے ہم گورنمنٹ کو دے چکے ہیں لیکن بورنگ ابھی تک کامیاب نہیں ہو سکا۔بعض اور ذرائع کا بھی پتا چلا ہے۔ہم کوشش کریں گے کہ کسی نہ کسی طرح پانی مہیا کیا جائے ورنہ نہر سے یا دریا سے پانی لینے کی کوشش کی جائے گی۔بہر حال میں سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کوئی نہ کوئی ایسا سامان کر دے گا کہ ہمیں پانی میسر آجائے گا اور اس کی وجہ سے کوئی ای تکلیف نہیں ہوگی۔