خطبات محمود (جلد 2) — Page 85
تکلیف اور مشقت سے خوف نہ کھائیں۔اگر اس عید سے آپ لوگ یہ سبق سیکھ لیں تو آپ کے مرنے کے بعد بھی آپ کی عید میں ختم نہ ہوں گی۔مجھے افسوس کے ساتھ اس امر کا اظہار کرنا پڑتا ہے کہ اس معاملہ میں ہماری آئندہ نسل میں بہت بڑی کمزوری پائی جاتی ہے اور مجھے افسوس ہے کہ بعض افراد کے دل میں یہ خیال میٹھا ہوا ہے۔بچوں کی بڑے ہو کو خود بخود اصلاح ہو جائے گی۔ان کا بچہ اگر کوئی غلطی کرتا ہے۔تو وہ کہ دیتے ہیں۔خیر بچہ ہے بڑا ہو کر سمجھ جائے گا۔یہ ایک ایسا ناقص اور پاجی خیال ہے کہ اس سے بڑھکر اور کوئی غلط خیال نہیں ہو سکتا اور پھر یہ خیال ان کے دل میں ایسی جڑ پکڑ گیا ہے کہ نکلنے میں نہیں آتا۔میں پوچھتا ہوں کیا رسول کریم صلی اللہ علیہا کہ وسلم سے بڑھ کر ہمیں اپنی اولاد پیاری ہو سکتی ہے۔آپ کی نرینہ اولاد نہ تھی۔اور یہ ایک طبعی امر ہے کہ جب کسی کی اپنی زمینہ اولاد نہ ہو تو اس کو اپنے نواسوں سے بہت محبت ہوتی ہے۔پس ایک تو آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نرینہ اولاد نہ تھی۔اس لئے طبعاً آپ کو اپنے نواسے بہت پیارے تھے۔دوسر اس لئے بھی کہ وہ حضرت فاطمہ کے بطن سے تھے جو آپ کو بہت پیاری تھیں پھر اس لئے بھی کہ وہ حضرت علی کے بچے تھے جو آپ کو بہت عزیز تھے۔کیا بلحاظ اس کے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے بچپن کے زمانہ میں جبکہ قریبی سے قریبی رشتہ داروں نے بھی آپ کا ساتھ دینے کی جرات نہ کی ، آپ کا ساتھ دیا تھا۔اور کیا بلحاظ اس کے کہ حضرت علی کے والد ابو طالب نے آپ سے عمدہ سلوک کیا تھا۔شروع شروع میں آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے تمام رشتہ داروں کو جمع کیا او فرمایا مجھے خدا نے مامور بنایا ہے اور دنیا کی اصلاح کے لئے اس نے مجھے چنا ہے۔تم میں سے کون ہے جو اس بوجھ کو اٹھانے میں میرے ساتھ شامل ہو۔اگر چہ کئی رشتہ دار آپ کو سچا یقین کرتے تھے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جھوٹ نہیں بولتے مگر کسی کو جرات نہ ہوئی کہ آپ کا ساتھ دینے کی حامی بھر سکے۔آپ کے کئی بچے تھے جو آپ کو سچا اور راستباز یقین کرتے تھے مگر ان مشکلات اور مخالفتوں کی وجہ سے جو آپ کا ساتھ دینے میں پیش آنیوالی تھیں خاموش رہے۔مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ جن کی عمر اس وقت گیارہ برس کی تھی وہ آگے پڑھے اور انہوں نے کہا۔میں آپ کی مدد کروں گا یہ تو ایسے وقت میں ان کی یہ جرات اور یہ دلیری خود اپنی ذات میں ایسی چیز تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دل میں ان کی محبت کے جذبات پیدا کرتی اور انہیں عزیز بناتی تھی۔علاوہ اس کے وہ ابو طالب کے لڑکے تھے اور ابو طالب وہ تھے بنوں آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم