خطبات محمود (جلد 2) — Page 80
د فرموده در جولائی ۱۹۷۵ء بمقام باغ حضر مسیح موعود قادیان) آج کا دن ہمارے لئے جہاں اور بہت سے سبق پیش کرتا ہے وہاں اس دن آئندہ نسلوں کے متعلق بھی عظیم الشان سبق ہے۔اگر اس عید کے سبق کو ہماری جماعت یا کوئی جماعت بھی پوری طرح یاد رکھے تو وہ کبھی تباہ اور بر باد نہیں ہو سکتی۔در حقیقت تباہی کا موجب یہ امر ہوتا ہے کہ کوئی شخص یا کوئی جماعت اپنی عزت کو، اپنے وقار کو ، اپنی روحانیت کو قائم رکھنے کے لئے کوئی اپنا قائم مقام نہیں چھوڑتی۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں دنیا کی ہر ایک چیز تباہ ہورہی ہے اور اگر کسی جنس کے افراد اپنی تب ہی کے بعد کوئی اپنا قائم مقام نہ چھوڑیں تو اس جنس کا دنیا سے بالکل خاتمہ ہو جاتا ہے۔ہر ایک چیز ایک حد تک پہنچکر پھر اپنے وجود کو قائم نہیں رکھ سکتی اس کا قیام اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے قائم مقام چھوڑ کر اپنی جنس کو نتا ئم رکھے۔انسان کرتے ہیں۔اگر وہ اپنی اولاد کو اپنا قائم مقام نہ چھوڑ جائیں تو آئندہ انسانی نسل کا دنیا سے خاتمہ ہو جائے۔درخت اُگتے ہیں، پھل لاتے ہیں پھر سوکھ جاتے ہیں۔اگر نئے درخت ان کی جگہ نہ لیں اور ان کے قائم مقام نہ نہیں تو ان درختوں کا بالکل وجود ہی مٹ جائے۔غرض ہر ایک چیز ہم دیکھتے ہیں کہ تباہ ہو رہی ہے۔اور وہ اپنے وجود کو قائم نہیں رکھ سکتی جب تک کہ وہ اپنا قائم مقام نہ چھوڑ جائے۔اگر کوئی یہ سمجھے کہ بغیر اپنے قائم مقام چھوڑے موجودہ حالت کے ساتھ دنیا میں قائم رہ سکتا ہے تو یہ ایک غلہ خیال ہوگا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کون ہو سکتا ہے جب آپ اپنے اس وجود کے ساتھ دنیا میں نہیں رہے اور تریسٹھ سال کی عمر میں آپؐ نے وفات پائی تو اور کون شخص کہ سکتا ہے کہ میں موجودہ حالت کے ساتھ اپنے وجود میں قائم رہ سکتا ہوں۔لوگوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو انیس سو سال سے آسمان پر زندہ سمجھ رکھا تھا۔مگر ان کے متعلق بھی اس زمانہ کے ورسل اور ماموں نے ثابت کر دیا کہ فوت ہو چکے ہیں زندہ نہیں پس اگر انبیاء بھی اپنے قائم مقاموں کے بغیر اپنے سلسلہ کو قائم نہیں رکھ سکتے تو پھر ہم اپنے قائم مقاموں کے بغیر اپنی جماعت کو کس طرح قائم رکھ سکتے ہیں۔اگر یہ بات صحیح ہو کہ موجودہ حالت کے ساتھ ہی انسان یا کوئی دوسرا وجود جو دنیا میں قائم رہ سکتا ہے تو پھر اس بات کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے کہ ایک انسان سیر