خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 54

۵۴ فرموده بر نمبر شاه مقام با حضرت مولوی اسلام قادیا) وا عَلَيْهِمْ نَبَا ابْنَى دَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُتِنَ من أحدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ قَالَ لَا قُتُلَنَّكَ قَالَ انَّمَا يَتَقَبَّلُ اللهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ له یہ عید قربانی کی عید کہلاتی ہے۔عیدالاضنمی بھی اسے کہتے ہیں۔کیونکہ اس پر قربانیان کی جاتی ہیں ، ہمارے ملک میں اسی کا ترجمہ کر کے اس کا نام بعض لوگوں نے عید قربان رکھ لیا ہے۔اس عید میں اور اس سے پہلی عید میں جو عید الفطر کھلاتی ہے۔یہ فرق ہے کہ عید الفطر میں بوجہ اس کے کہ منان کا تمام مہینہ طاقت رکھنے والے مسلمان روزے رکھتے ہیں۔رسول کریم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس عید کے دن یہ سنت تھی کہ آپ صبح کچھ ناشتہ کر کے عید پڑھنے کے لئے جاتے تھے یہے مگر آج کی عید کے دن کا پہلا حصہ نیم روزه اور پچھلا حصہ قربانی کا ہوتا تھا۔اور آپ کی سنت تھی کہ عید پڑھنے سے پہلے کچھ تناول نہ فرماتے تھے ، بعد میں جا کر قربانی کے گوشت سے کھاتے تھے کیے اس لئے یہ عید اپنے اندر دو نمونے رکھتی ہے کیونکہ اس کا ایک حصہ روزے کا اور دوسراحصہ کھانے کا ہے مگر پہلی عید ایک ہی رنگ رکھتی ہے کہ مہینہ بھر روزے رکھے جاتے ہیں اور اس دن کھایا پیا جاتا ہے۔عام طور پر یہ عید بڑی عید کہلاتی ہے۔اور رمضان کے بعد جو عید آتی ہے وہ چھوٹی۔یوں تو ان کی بڑائی چھوٹائی اللہ تعالئے ہی جانتا ہے لیکن یہ یقینی امر ہے کہ جس شخص نے جس عید پر خدا تعالے کے قرب کی راہ تلاش کی وہی عید اس کے لئے بڑی ہے۔اور جس عید کا دن یونسی گذر گیا وہ عید اس کے لئے چھوٹی چھوڑ محرم اور ماتم کا دن ہے تو بڑی اور چھوٹی عید نسبتی امر ہے۔حقیقت میں کوئی نہیں جانتا کہ کونسی عید بڑی ہوگی اور کونسی چھوٹی۔نمو تا چونکہ اس عید پر قربانیاں ہوتی ہیں اور لوگ خوب کھاتے پیتے ہیں اس لئے اس کو بڑی عید کہتے ہیں۔مگر لوگوں کے اس فیصلہ کے علاوہ اس کے متعلق ہم ایک خدائی فیصلہ بھی دیکھتے ہیں لوگوں نے تو اس کا نام بڑی عید رکھا مگر جہالت سے کہ کھانے پینے کا خوب موقع ملتا ہے لیکن خدا تعالے کی طرف سے بھی اس کو بڑائی کا خطاب ملا ہوا ہے۔پرانے زمانہ کو تو جانے دو کہ اس میں خدا تعالیٰ نے اس عید کی کیا فضیلت بیان کی ہے۔اسی زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام کو الہام ہوا کہ اس عید پر عربی میں خطبہ پڑھنا۔خدا تعالے تمہاری زبان پر الفاظ جباری کرے گا پہنا تو ایسا ہی کی