خطبات محمود (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 41 of 432

خطبات محمود (جلد 2) — Page 41

ہوا ہے۔بعض اس کے والد کے متعلق کچھ لکھتے ہیں اور بعض کچھ۔یہ جزیرہ کا رسیکا کا رہنے والا تھا اور تعلیم پانے کے لئے فرانس میں آیا تھا لیکن اپنی دانائی اور ملک کی خیر خواہی کی وجہ سے آہستہ آہستہ فرانس کا بادشاہ بن گیا ہے فرانس میں جب بغاوت اور فساد ہوا۔تو بادشاہ اسی کو بنا یا گیا تھا۔نسلی یا خاندانی تو کوئی وجہ ایسی نہ تھی کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوتے اور اسے اپنا شہنشاہ بنالیتے۔لیکن اس میں جو قابلیت اور ملک کی خیر خواہی تھی، اس کی وجہ سے یہ مقام اسے حاصل ہوا۔کہ بعض اوقات لاکھوں ہزاروں انسان اس کی خاطر اور اس کی حفاظت کرتے ہوئے ذبح ہو گئے لیے آخری دفعہ واٹر کو کے میدان میں جب انگریز اپنی اور جرمنوں نے اس کو شکست دی ہے۔اس وقت کے واقعات نہایت موثر اور رفت پیدا کرنے والے ہیں۔اس کے متعلق اسی کا ایک جرنیل لکھتا ہے کہ جس وقت نپولین کو یہ دھوکا لگ گیا کہ اس نے سمجھا کہ اس کی فوج کا وہ حصہ جسے اس نے پیچھے اپنی مدد کے لئے چھوڑ رکھا تھا کہ بعد میں آلے وہ آرہا ہے۔حالانکہ آنیوالی فوج نشین کی فوج تھی ، اور وہ بالکل قریب آگئی تھی تو یہ خبر لے کر میں ہی نپولین کے پاس گیا۔جس وقت میں گیا تو ہماری ساری فوج پراگندہ ہو ہی تھی اور گولہ بارود بالکل ختم ہو چکا تھا۔آگے اور پیچھے دونوں طرف دشمن حملہ آور تھا اس خطر ناک صورت میں ہر ایک جرنیل نیونین کے پاس آتا اور کہتا کہ اب آپ میدان سے ہٹ جائیں لیکن اس کا یہی جواب تھا کہ جس میدان میں میں اپنے ملک کے نوجوانوں کو لا کو قربان کر رہا ہوں اس سے خود کس طرح ہٹ جاؤں۔میں یہاں سے کبھی نہیں ہٹوں گا۔اس وقت تو سیخانہ کے آدمی نہتے ہو کہ نپولین کے گرد کھڑے تھے جن سے پوچھا گیا کہ جب تمہارے پاس لڑائی کا سامات نہیں تو کیوں نہیں ہٹ جاتے۔انہوں نے کہا۔ہم جانتے ہیں کہ ہمارے پاس سامان نہیں ہے لیکن ہم اس لئے میدان سے نہیں ہٹتے کہ ہمارے ہٹنے سے نپولین پکڑا جائے گا۔آخر اس کے گارڈ کے آدمی بھی کتنے شروع ہو گئے بلکہ قریبا کٹ گئے تو بھی نپولین میدان سے ہٹ جائے پر آمادہ نہ ہوا۔اور اس کی جان نہایت خطرہ میں پڑ گئی۔تو دو جرنیل آئے اور انہوں نے اس کے گھوڑے کی باگیں پکڑ لیں۔اور کہا کہ اب ملک کی خیر خواہی ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس بارہ میں آپ کی اطاعت نہ کریں۔یہ کہا اور نپولین کے گھوڑے کو ایڑ لگا کر دوڑاتے ہوئے میدان سے لے گئے نے اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ نپولین کے لئے کس قدر لوگوں نے اپنے آپ کو قربان کیا ہوگا۔تاریخ اس سے بھی بڑی بڑی قربانیاں ہمارے سامنے پیش کرتی ہے۔یہ قربانیاں تو وہ تھیں جو ایک آدمی کے لئے کی گئیں۔لیکن ایک وہ قربانیاں ہوتی ہیں جو اس سے بھی بڑی